30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ذٰلك عند الامام وان کانت سلمت نفسھا وبہ صرحت المتون قاطبۃ١ [1]۔ |
وصول کر لےامام صاحب رحمہ اﷲتعالٰی کے ہاں ہے، اگر چہ بیوی پہلے اپنے آپ کو سونپ چکی ہو، اس مسئلہ پر تمام متون تصریح کرچکے ہیں۔(ت) |
آخر یہ علمائے محققین وعظمائے مدققین رحمۃ اﷲعلیہم اجمعین فتوائے امام صفار واختیار بعض مشائخ سے غافل نہ تھے، پھر قولِ امام ہی پر جزم واعتماد فرماتے ہیں، کوئی تو قولِ صاحبین کا نام تك نہیں لیتا اور اکثر متون کایہی حال ہے، کوئی صاف وہ الفاظ بڑھاتا ہے جس سے ان کے مذہب کی صریح نفی ہوجائے، کوئی صرف مذہب امام ہی پر دلیل قائم کرتا ہے، کوئی دلیل صاحبین سے جواب دیتا ہے، جنہوں نے وعدہ کیا کہ قولِ قوی کو مقدم لائیں گے وُہ اسی مذہب کی تقدیم کرتے ہیں، جنہوں نے التزام کیا کہ دلیل معتمد کی تاخیر کریں گے وہ اسی کی دلیل پیچھے لاتے ہیں۔ غرض طرح طرح سے ترجیح وتصحیح مذہب امام کا افادہ فرتے ہیں، اور کبرائے ناظرین شراح ومحشین کہ مذکور ہوئے تقریر وتسلیم سے پیش آتے ہیں' ناچار ماننا پڑے گا کہ ان سب کے نزدیك معتمد ومرجح ومحقق ومنقح مذہب امام ہے رضی اﷲتعالٰی عنہ، اور قوت دلیل کہ مطالعہ ہدایہ وکافی واختیار وکفایہ وغیرہ سے واضح ہوتی ہے اس پر علاوہ، پس جبکہ یہی ١ مذہبِ امام اعظم ہے اور اسی پر٢ متون کا اجماع اور اسی٣ کی دلیل اقوٰی اور اس٤ قدر کثرت سے اس کے مرجحین، تو وجہ کیا ہے کہ اس سے عدول کیا جائے حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مفتی مطلقًا قول امام پر فتوٰی دے، اور قاضی عمومًا مذہب امام پر فیصلہ کرے یعنی جب کوئی ضرورت مثل تعامل المسلمین یا اجماع المرجحین علی الخلاف کے داعی ترک، نہ ہو، کما فی مسئلتی جواز المزار عۃ وتحریم القلیل من لامائع المسکر جیسا کہ مزارعت کے جواز اور قلیل مسکر پانی کی تحریم کے دونوں مسئلوں میں ہے۔ت اورحکم دیتے ہیں کہ قول امام سے عدول نہ کیا جائے اگر چہ مشائخ مذہب اس کے خلاف پر فتوٰی دیں۔ ١ منیہ و٢ سراجیہ و٣ محیط امام سرخسی وفتاوٰی٤ عالمگیری و٥ بحرالرائق و٦ نہر الفائق و٧ فتاوی خیریہ و٨ تنویر الابصار و٩ شرح علائی ١٠ حاشیہ طحطاویہ وغیرہا کتبِ معتمدہ میں اس کی تصریح ہے، درمختار میں ہے :
|
یاخذ القاضی کالمفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ثم بقول ابی یوسف ثم بقول محمد ثم بقول زفر والحسن بن زیاد وھو الاصح منیۃ وسراجیۃ[2]۔ |
قاضی بھی مفتی کی طرح امام صاحب کے قول مطلقًا لے گا، پھر امام ابویوسف، پھر امام محمد، پھر امام زفر اور حسن بن زیاد کے اقوال کو لے گا، یہی اصح ہے، منیہ وسراجیہ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع