30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واستحسن بعض المشایخ اختیارہ اھ١ [1]۔ |
بعض مشائخ نے ان کے مختارکوپسند فرمایا ہے اھ(ت) |
اسی طرح ہندیہ میں محیط سے ہے : ولفظہ مشایخنا[2]۔ (اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ نے۔ت)مگر اکثر اکابر ائمہ وعلماء فقہاء مذہب امام کو ترجیح دیتے اور اسی پر جزم و اعتماد کرتے ہیں متون کہ خاص نقل مذہب صحیح ومتعمد کے لئے وضع کئے جاتے ہیں علی العموم اسی مذہب پر ہیں۔ فتاوٰی خیریہ میں ہے: بہ صرحت المتون قاطبۃ[3] (تمام متون اس کی تصریح کرچکے ہیں۔ت) اور وقایہ ونقایہ وتنویرودرمختار کی عبارتیں سُن چکے کہ اُنہوں نے تصریحًا مذہب صاحبین کی نفی فرمائی اور جب ماتن نے باب نفقہ میں ولومنعت نفسھا للمھر[4]۔ ( اگر چہ بیوی نے مہر کے لئے اپنے کو روك رکھا ہو۔ت) فرمایا شارح نے دخل بھا اولا [5](دخول ہوچکا ہو یانہ۔ت) اور بڑھایا تاکہ اس کی نفی پر تنصیص تام ہوجائے،اسی طرح وافی ومختارمیں بھی اسی پر اقتصاد کیا اور درمختار میں صرف اسی مذہب پر دلیل قائم کی کما سبق نقلہ(جیساکہ اس کی نقل گزری۔ ت)اور اقتصار وتعلیل دونوں دلیل اختیار وتعویل،ردالمحتارمیں ہے :
|
اقتصارہ فی المتن(یعنی تنویر الابصار) یفید ترجیحہ٦ [6]اھ ملخصًا ذکرہ فی کتاب القضاء مسئلۃ ولایۃ بیع الترکۃ لامستغرقۃ بالدّین ۔ |
ماتن کا یعنی تنویرالابصارکا اس پر اکتفاء کرنا ترجیح کو مفید ہے اھ ملخصًا۔ اس کو انہوں نے کتاب القضاء میں قرض میں مستغرق ترکہ کی ولایت بیع کے مسئلہ میں ذکر کیاہے۔(ت) |
طحطاوی میں ہے :
|
الاقتصار علیہ یدل علی اعتمادہ[7] اھ ذکرہ قبیل الوصیۃ بثلث المال ۔ |
اس پر اکتفا ء ان کے اعتماد کی دلیل ہے اھ اس کو انہوں نے ثلثِ مال کی وصیّت سے قبل ذکر کیا۔(ت) |
[1] جواہر الاخلاطی فصل فی المہر قلمی نسخہ ص٦٣
[2] فتاوی ہندیہ الفصل الحادی عشر فی منع المرأۃ نفسہا بمہرھا نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣١٧
[3] فتاوٰی خیریہ باب النفقۃ دارالمعرفۃ بیروت ١/٦٩
[4] درمختار شرح تنویرالابصار باب النفقۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٧
[5] درمختار شرح تنویرالابصار مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٦٧
[6] ردالمحتار مطلب فی بیع الترکۃ المستغرقہ بالدین داراحیاء التراث العربی بیروت ٤/٣٤٠
[7] حاشیۃالطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا دارالمعرفۃ بیروت ٤/٣٢١
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع