30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مکروہ تنزیہی کا ارتکاب معصیت نہیں۔ |
٢٠٤ |
قاضی کوئی شرط نکاح نہیں آدمی جس سے چاہے نکاح پڑھوائے۔ |
٢٩٦ |
|
جان کا رکھنا ہر فرض سے اہم فرض ہے۔ |
٢٠٥ |
قاضی نکاح کے شرعًا کچھ اختیارات نہیں، نہ وہ اجرت کا مستحق جبکہ نکاح دوسرے نے پڑھایا ہو۔ |
٢٩٧ |
|
شریعت وعقلِ سلیم کا یہ تقاضا نہیں کہ ہلکی شئی کو بچانے کےلئے ثقلِ عظیم کا ارتکاب کیا جائے۔ |
٢٠٥ |
نکاح خوانی کے قاضی"اسماء سمیتموھاانتم و اباؤکم ماانزل اﷲبھا من سلطٰن"کے قبیلہ سے ہیں۔ |
٢٩٧ |
|
عقود میں معانی کا اعتبار ہے یہاں تك کہ نکاح میں بھی۔ |
٢١٣ |
خدا نے مردوں کو دو دو تین تین چارچار عورتیں حلال فرمائیں، عورت کے لئے یہی حکم کیوں نہیں ہوا۔ |
٣٠١ |
|
جد یہ ہے کہ شئے سے اس کے موضوع لہ کا ارادہ کیا جائے۔ |
٢٢٦ |
نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ ہے۔ |
٣١٣ |
|
ہزل اور مجاز میں فرق۔ |
٢٢٦ |
کسی عورت سے نکاح اس کی دختر کی تحریم کیلئے نہ تو علت ہے اور نہ ہی جزءِ علت۔ |
٣٥٤ |
|
جہل باللسان تقصیر نہیں۔ |
٢٢٩ |
ماں سے صحبت دختر کےلئے علتِ تحریم ہے اور یہ قطعًا مزنیہ میں بھی ثابت ہے۔ |
٣٥٤ |
|
مرد کا ارتداد بالاجماع فسخ نکاح فی الحال ہے۔ |
٢٤٤ |
وُہ صورتیں جن میں ایسی عورت سے دخول کیا جو اس کیلئے حلال نہیں مگر اس دخول سے موطوہ کی دختر حرام ہوگئی۔ |
٣٥٥ |
|
عورت کے مرتد ہونے سے نکاح فسخ نہیں ہوتا مگر مرد کو اس سے قربت حرام ہوگئی جب تك اسلام نہ لائے۔ |
٢٤٥ |
تحریمِ دختر کےلئے نہ نکاح شرط نہ وطی کابروجہ حلال ہونا لازم بلکہ مناط حرمت صرف وطی ہے۔ |
٣٥٥ |
|
مجبوری مانع جوازِ نکاح نہیں ہوتی۔ |
٢٤٥ |
نکاح معنی وطی میں حقیقت ہے یا مجازمتعارف۔ |
٣٥٦ |
|
تفقہ فقط کتاب سے عبارت دیکھ لینے اور لفظی ترجمہ سمجھ لینے کا نا م نہیں بلکہ مقصد شرع کا ادراك اور احوال بلاد وعباد پر نظررکن اعظم تفقہ ہے۔ |
٢٦٣ |
امرفرج میں شرعًا احتیاط واجب ہے۔ |
٣٥٦ |
|
لڑکی کَے برس میں بالغ ہوتی ہے۔ |
٢٧٤ |
اصل فرج میں حرمت ہے جب تك حل ثابت نہ ہو حرمت ہی پر حکم ہوگا۔ |
٣٥٦ |
|
شرع میں غیر کفو کسے کہتے ہیں۔ |
٢٨٠ |
مصاہرت مصاہرت میں فرق نہیں۔ |
٣٥٦ |
|
عوام کے محاورہ میں غیر کفو کسے کہتے ہیں۔ |
٢٨٠ |
طلاق اور متارکہ میں فرق۔ |
٣٦٥ |
|
نکاح شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا۔ |
٢٩٥ |
حرمت مصاہرہ اور حرمتِ رضاعت سے نکاح مرتفع نہیں بلکہ فاسد ہوجاتا ہے۔ |
٣٦٥ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع