30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
زید بکر کا رضاعی بھائی ہے، زید کے چھوٹے بھائی کانکاح بکر کی چھوٹی بہن سے کیسا ہے۔ |
٢٧٩ |
بکر نے زید کی بی بی کا پہلی اولاد پر دودھ پیا تین اولادوں کے بعد زید کی جولڑکی ہوئی اس لڑکی سے بکر کے نکاح کا حکم۔ |
٤٦٣ |
|
اگر پسر زید نے زوجہ عمرو کی چھاتی جبکہ وہ چار پانچ ماہ کی حاملہ تھی اور حمل بھی پہلا تھا منہ میں لے لی اس وقت دودھ ہونا معلوم نہیں تو اس لڑکے کا عمرو کی لڑکی سے نکاح ہوگا یانہیں۔ |
٢٨٤ |
اپنے حقیقی بھائی کی رضاعی بیٹی سے نکاح کے بارے میں بعض بنگالیوں کے فتوے کارد۔ |
٤٧٠ |
|
ثبوتِ رضاعت کےلئے ضروری ہے کہ جوفِ صبی میں دودھ کا قطرہ منہ یاناك کے راستے جانا معلوم ہو محض چھاتی دبانے سے رضاعت ثابت نہ ہوگی۔ |
٢٨٤ |
بھائی کی رضاعی نواسی سے نکاح جہالت ، گمراہی اور شریعت پر افتراء ہے۔ |
٤٧٧ |
|
دودھ اترنے کےلئے کوئی مدت نہیں قوتِ مزاج وکثرتِ خون سے کنواری کو دودھ اُتر سکتا ہے۔ |
٢٨٤ |
جس مرد کی طرف دودھ منسوب ہے وہ رضیع کا باپ، اس کی اولاد رضیع کے بھائی بہن، اس کے بھائی رضیع کے چچے اور اس کی بہنیں رضیع کی پھوپھیاں ہوں گی جبکہ رضیع کی اولاد اس مرد کی اولاد ہوگی۔ |
٤٧٨ |
|
ہندہ نے اپنے ابن الابن زید کو دودھ پلایا ہندہ کی نواسی سے زید کا نکاح ہوسکتا ہے۔ |
٣١١ |
رضیع ومرضعہ کی اولادوں کے درمیان نکاح کے حرام ہونے پر تیس نصوص۔ |
٤٩١ |
|
ہندہ نے زینب کا دودھ پیا ہندہ کے بیٹے پر زینب کی دختر حرام ہے۔ |
٣٣٩ |
رضاعی بھائی کی بیٹی حرام ہے۔ |
٤٩٢ |
|
لیلٰی وسلمٰی رضاعی بہنیں ہیں زید نے لیلٰی سے نکاح کیا ہے زید کے پسر عمر و کا نکاح سلمٰی سے جائز ہے۔ |
٣٤٠ |
رضیع کی تمام اولاد پر مرضعہ کی تمام اولاد حرام ہے۔ |
٤٩٣ |
|
زید نےہندہ سے نکاح کیا ، ہندہ سے حسن وحسین پیداہوئے پھر بعد ہندہ حفصہ سے نکاح کیا، حفصہ نے اپنی بیٹی کے ساتھ حسین کے بیٹے بکر کو دودھ پلایا تو بکر کا نکاح زاہدہ بنت حسن سے جائز ہے یا نہیں ، |
۳۴۷ |
رضیع کی بیوی مرضعہ کے شوہر پر حرام ہے ۔ |
۴۹۳ |
|
کیا زید کی حقیقی بہن کی رضاعی بہن زید کے نکاح میں آسکتی ہے۔ |
٤٢٢ |
رضیع کی بیٹیاں اور نواسیاں مرضعہ کے شوہر اور اس کے بیٹوں پر حرام ہیں ۔ |
۴۹۳ |
|
فقیرے نے بیبا کا دودھ حفیظن کے ساتھ پیا پھر بیبا کے فہیمن ہوئی فقیرے کا نکاح فہیمن سے کیسا ہے۔ |
٤٦٠ |
دودھ کا چچا بھی چچا ہے ان سے پردہ کی حاجت نہیں۔ |
٤٩٣ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع