30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بردہ۔ |
اسی کی اجازت پر موقوف ہوا تو اس کے رد کرنے پر رد ہوجائے گا۔(ت) |
اور اگر والد اس سے پہلے اپنی کسی دختر کا نکاح غیر کفو سے کرچکا ہو تواب اس کی اجازت سے بھی جائز نہیں ہوسکتا نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔
|
لانہ عقد فضولی صدرولامجیزلہ لکون الاب عرف بسوء الاختیار فبطل رأسا کمافی الدر وغیرہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیونکہ یہ ایسانکاح فضولی صادر ہوا ہے کہ اس وقت اس کو جائز کرنے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ باپ سوء اختیار سے معروف تھا لہذا یہ باطل ہوگا جیساکہ دروغیرہ میں ہے۔ (ت)والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٤٥٨: از شہر بریلی محلہ ذخیرہ مرسلہ عبدالحلیم صاحب ٣٠ شوال ١٣٣٥ھ
صاحبان علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں: زید نے اپنے آپ کو قوم کا پٹھان خاندانی ظاہر کیا اور بکر سے کہا کہ تم اپنی دختر کا نکاح میرے ساتھ کردو،بکر نے اپنی دختر کا نکاح زید کے ساتھ کردیا،بعد نکاح ہوجانے کے بکر کو معلوم ہواکہ زید قوم کا پٹھان نہیں ہے دھوکا دے کر نکاح کیا،اور وہ قوم کا فقیر تکیہ دار قبرستان ہے کہ جس سے میرے خاندان میں حقارت ہوگی او ر سبب بدنامی ہوگی،بکر نے اپنی دختر کو رخصت کرنے سے انکار کیااور بعد نکاح کے رخصت نہیں کی اور بکر قوم کا سید ہے۔
الجواب:
دختر بالغہ تھی یا نابالغہ؟ کیا عمر تھی،عارضہ ماہواری آتاتھایا نہیں؟ وقت نکاح دختر سے اذن لیا تھا یا نہیں؟ سب مفصل لکھا جائے کہ سوال لائق جواب ہو فقط
عالی جاہ! وقت نکاح دختر کی عمر ١٣ سال ٢ ماہ کی تھی،عارضہ ماہواری آتا تھا،اذن لڑکی سے لیا گیا تھا لیکن اس نے جواب دیا کہ میں کچھ نہیں جانتی،اس پرمجبورًا اس کی چچی نے اجازت دی،اجازت لڑکی کے باپ کی تھی بلکہ صرف لڑکی کا باپ اور بھائی بھی دونوں گواہ نکاح تھے فقط۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ظاہر ہے کہ زید کسی طرح سادات تو سادات کسی مغل،پٹھان کابھی کفو نہیں ہوسکتا،اور لڑکی بالغہ تھی اور اس نے اذن لینے پر لفظ یہ کہے کہ"میں کچھ نہیں جانتی"ظاہر ہے کہ یہ صاف اذن نہیں بلکہ اس سے معاملہ میں اپنا دخل نہ دینا بحسب منطوق مستفاد ہوتاہے او رکبھی بحسب قرینہ دوسروں کے اختیار پر چھوڑ نابھی مفہوم ہوتاہے یعنی مجھے بحث نہیں تم جیسا جانو کرو۔بر تقدیر دوم یہ نکاح دخترکی اجازت سے قرار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع