30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قریش بعضھم اکفاء بعض [1](بعض قریش بعض کے لئے کفو ہیں۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
|
فلو تزوجت ھاشمیۃ قرشیا غیر ھاشمی لم یرد عقدھا [2]۔ |
اگر ہاشمی لڑکی نے غیر ہاشمی قرشی سے نکاح کرلیا تو اسے رد نہیں کیا جائے گا۔(ت) |
مسئلہ ٤٥٧: از لکھنؤ محلہ سبزی منڈی مکان بگن وبٹن عقب مکان ابراہیم صاحب عینك ساز مرحوم مرسلہ عبدالمجید صاحب ٢٨ رجب ۱٣٣٥ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام رحمہم ا لله علیہم اس مسئلہ میں کہ لڑکی نابالغہ کی شادی بغیر حکم یابے اجازت اس کے والد کے کسی غیر کفو شخص کے ہمراہ اس لڑکی کی ماں کردے تو جائزہے اورجبکہ اس کی ماں کو بھی دھوکا دیا گیا ہو یعنی جو شخص اس لڑکی کے ساتھ شادی کررہا ہے وہ ایسے آپ کو حلفًا نہایت شریف شخص بتارہا ہے لیکن دریافت کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخص نہایت نیچ ذات کا شخص ہے تو ایسی حالت میں اس لڑکی کی ماں ناراض ہوکر اور باپ بھی ناراض ہوکر اس لڑکی کا نکاح فسخ کراسکتا ہے یا نہیں؟ آیا ان دونوں یعنی لڑکے کے والدین کو شرعا یہ حق حاصل ہے کہ اپنی لڑکی کوبغیر طلاق دلوائے ہوئے دوسرے شریف النسب شخص سے نکاح کراسکتے ہیں یا طلاق دلوانے کی ضرورت ہوگی؟ فقط،بینواتو جروا
الجواب:
اگر صور ت واقعیہ یہ ہے کہ نابالغہ کی شادی اس کی ماں نے خصوصًا ایسے شخص سے کردی خواہ دانستہ یا دھوکے سے،اور والد کا اذن نہ اجازت،تو اس صورت میں بدرجہ اولٰی یہ نکاح سرے سے بے ثبات محض ہوا،باپ کو نکاح فسخ کرانے کی اس حالت میں بھی حاجت نہ تھی کہ نکاح کفو سے ہوا ہوتا،اس کا رد کردینا ہی کافی ہوتا،تو یہاں بدرجہ اولٰی اس کا صرف اتنا کہہ دینا بس ہے کہ"میں اس پر راضی نہیں"وہ نکاح ر د ہوجائے گا،اور والد کو اختیار ہوگا کہ بغیر طلاق دوسری جگہ نکاح کردے۔
|
لان عقد فضولی صدرولہ مجیز فتوقف علی اجازتہ فیرد |
کیونکہ یہ فضولی کا عقد ہے جواس حال میں صادر ہوا کہ اس وقت اس کو جائز کرنے والا موجود تھا تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع