30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
اگریہ بیانات واقعی ہیں تو وہ نکاح اصلا نہ ہوا،لڑکی کو اختیارہے جس اچھی جگہ چاہے اپنا نکاح کرلے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٤٥١: از شہر بریلی محلہ براہم پور مسئولہ محمد عرف کما ل الله شاہ صاحب ١١ صفر ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س باب میں کہ زید نے اپنی زوجہ منکوحہ سے بعد دینے طلاق کے اپنی دختر نابالغہ کو طلب کیا اس نے دینے سے انکار کیا،اس وقت زید بارادہ سفردور دراز کے مجبور ہوا اور متنبہ کردیا کہ خبردار اس کا نکاح خلاف رائے میری کے نہ ہو،چنانچہ مسماۃ مذکورہ نے عد م موجودگی زید کے اس دختر نابالغہ کا نکاح خلاف رائے زید کے کردیا،وہ شوہر دختر مثل عورات بازاری کے رقص کرنے والاہے او رپابند صوم وصلوٰۃ نہیں شراب خور ہے،اب دختر بفضلہ تعالٰی بالغہ ہے اس نے دفتر شکایات اس شوہر کا اپنے باپ زید سے بیان کیاکہ میرا نکاح اس شخص کے ساتھ جائز ہوا یا نا جائز؟ بینوا توجروا
الجواب:
سائل نے بیان کیا نکاح ہوئے تین۳ برس ہوئے اور عورت کی عمر اس وقت گیارہ سال تھی او رنابالغہ تھی او رمرد کی عمر پچیس۲۵ سال تھی اور جبھی سے ناچنے کا پیشہ رکھتا تھا،اور اسی وجہ سے باپ نے اس کے ساتھ نکاح کرنے کو منع کردیا تھا،باپ اندور چلاگیا،اس کے پیچھے عورت نے نکاح کردیا اور باپ کو کوئی خبر نہ ہوئی،لڑکی تین مہینے سے بالغہ ہوگئی،اب کوئی ایك ہفتہ ہوا اس کا باپ اندور سے آیا تو اب لڑکی نے اس سے شکایت کی،اس سے پہلے اس نے بھی کچھ نہ کہا،اگر صورت واقعہ یہ ہے تو نکاح مذکور باطل ہوگیا،ابتداء میں جب نکاح واقع ہوا ہے پدر پر موقوف تھا،
|
لانہ وان کان من غیر کفووالمزوج غیر اب وجد لکنہ عقد فضولی صدر،ولہ مجیز وھو الاب لان التزویج من غیرکفؤ۔ |
کیونکہ یہ نکاح غیر کفو میں ہے اور نکاح دینے والے باپ دادا کاغیر ہیں اور یہ فضولی کا نکاح ہوا جس کو جائز کرنے والا لڑکی کا باپ ہے کیونکہ اسی کو غیر کفو میں نکاح کا اختیار ہے۔(ت) |
جبکہ اس مدت میں عورت بالغہ ہوگئی توا ب وہ نکاح خود اس کی اجازت پر موقوف ہوگیا اور اس نے بعد بلوغ مدت سکوت کیا اس کی طرف سے اجازت ہوگئی،تو اب یہ ایسا ہوا کہ بالغہ نے اپنی رائے سے ایسے شخص کے ساتھ نکاح کرلیا اور ایسا شخص ضرو ر غیر کفو ہے اور اس کے ساتھ بالغہ کا اپنی رائے سے نکاح کرلینا باطل محض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع