30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یونہی اگر پسر کے نکاح میں دختر حرام کا دینا وہاں کے عرف میں باعث بدنامی وعار ہو تونابالغ پسر کانکاح بھی ایسی دختر سے اصلا نہ ہوگا سوااسی صورت پدر وجد بشرط مذکور کے علی ماتحررفی ماتقرر(جیساکہ تقریر میں واضح کیاگیا ہے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٤٤٨: از بدایوں مرسلہ مولوی عبدالرسول محب احمد صاحب ٢ جمادی الآخرہ ١٣٢١ھ
زید نے کہ صدیقی شریف متقی ہے خالد اور عمرو کے کہنے سے کہ خالد تیرا کفو ہے اور شریف خاندان ہے اپنی دختر نابالغہ کا نکاح خالد کے ساتھ کردیا اب بعدنکاح معلوم ہوا کہ خالد کے یہاں ہمیشہ سے پیشہ حرامکاری چلا آتاہے اس کے خاندان کے اکثر لوگ پیشہ زناکاری کرتے ہیں اور اسی قسم کی ان کی اولادیں ہیں مگرا ب خالد نے اپنی بہنوں کا نکاح لوگوں کے کہنے سننے سے شرعی طورپر کردیا فقط اب زید ایسی حالت میں کیا کرے کہ اس نے خالد کو اس کے اخبار پر اپنا کفوسمجھ کر ہندہ نابالغہ کانکاح کردیا تھا آیا یہ نکاح شرعا جائز ولازم ہے یا نہیں؟ اورزید کو اس وقت حق فسخ حاصل ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زیدکو حق فسخ حاصل ہونے میں تو اصلا کلام ہو ہی نہیں سکتا۔ولوالجیہ ودرمختار میں ہے:
|
اذا شرطوا الکفاءۃ او اخبرھم بھا وقت العقد فزوجوھا علی ذلك ثم ظھرانہ غیر کفو کان لھم الخیار [1]۔ |
جب اولیاء نے کفو کی شرط پر نکاح دیا یالڑکے نے وقت نکاح خود کو کفو ہونا بتایا،بعد میں غیر کفو ہونا ظاہر ہوگیا تو اولیاء کو فسخ کا اختیار ہے۔(ت) |
کلام اس میں ہے کہ فسخ کی حاجت بھی ہے یا نہیں،بہت کتب میں تصریح ہے کہ ایسا نکاح محض باطل ہے اور جب باطل ہے تو سرے سے ہوا ہی نہیں فسخ کی کیا ضرورت ہے۔فتاوی قاضی خاں و فتاوی بزازیہ و نوازل امام فقیہ ابواللیث وفتح القدیر شرح ہدایہ وردالمحتار علی الدرالمختار وغیرہا میں ہے:
|
واللفظ للوجیز زوج بنتہ الصغیرۃ من رجل ظنہ مصلحا لا یشرب مسکرافاذا ھو مد من فقالت بعد الکبر لاارضی بالنکاح،ان |
لفظ وجیز کے ہیں کہ ایك شخص کو نابالغ بیٹی کا نکاح اس گمان سے کردیا کہ یہ صالح ہے اور شرابی وغیرہ نہیں ہے تو بعد میں معلوم ہوا کہ شراب کا عادی ہے اور بیٹی نے بالغ ہونے پر کہاکہ میں اس نکاح پر راضی نہیں ہوں۔تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع