30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور یہی مطلب ہے اس حدیث کاکہ:
|
فرخ الزنا لایدخل الجنۃ [1]۔رواہ ابن عدی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند ضعیف۔ |
زنا کا چوزہ جنت میں نہ جائے گا۔(اس کو ابن عدی نے ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ت) |
یعنی غالبا اس سے وہ افعال صادر ہوں گے جو سابقین کے ساتھ دخول جنت سے روکیں گے،بالجملہ یہ مطلب کسی طرح نہیں کہ ان کے گناہ کا عذاب اس پر ہو یا بے گناہ وعید کامستحق ہو،مگر اس امر نکاح میں شرع مطہر نے کفاءت کا بھی لحاظ فرمایا ہے دختروں کے لئے مطلقا بالغہ ہوں خواہ نابالغہ اور پسروں کے لئے جبکہ نابالغ ہوں۔
|
کما حررہ فی ردالمحتار مستند المافی البدائع و حققناہ فی البحروالخیریۃ والخانیۃ والتبیین والکافی والسراج الوھاج والھندیۃ کما ذکر ناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔ |
اس کو ردالمحتارمیں بدائع کے حوالے سے بیان کیاہے،اور ہم نے اس کی تحقیق بحر،خیریہ،خانیہ،تبیین،کافی،سراج الوہاج اور ہندیہ کے بیانوں سے کی ہے،جیسے کہ ہم نے اس کو ردالمحتار کے حاشیہ پر ذکر کیاہے۔ت) |
اور شك نہیں کہ جس کا ولد الزنا ہونا مشہور ہو اس سے دختر حلال کا نکاح عرفا باعث ننگ وعارو انگشت نمائی ہوتاہے اور یہی معنی عدم کفاءت کے ہیں۔
|
فی الشامیۃ عن الفتح ان الموجب ھو استنقاص اھل العرف فیدو رمعہ [2]۔ |
فتاوی علامہ شامی میں فتح سے منقول کہ اہل عرف کا حقیر جاننا سبب ہے لہذا حکم کا مدار اسی پر ہوگا(ت) |
تو بحالت عار کسی عورت کانکاح ولدالحرام کے ساتھ نہیں ہوسکتا اگر کیا جائے گا نکاح اصلا نہ ہوگا مگر دوصورتوں میں،ایك یہ کہ دختر نابالغہ کا نکاح باپ یا وہ نہ ہو تو دادااپنی تزویج سے کرے اور وقت نکاح نشے میں نہ ہو نہ اس سے پہلے اپنی اولاد سے کسی دختر کا نکاح غیر کفو سے کرچکاہو دوسرے یہ کہ زن بالغہ برضائے خود کرے اور اس کے لئے کوئی ولی ہو تو وہ پیش ازنکاح باوصف اس اطلاع کے کہ وہ شخص ولدالحرام ہے تصریحا اپنی رضاظاہرکردے والمسائل مفصلۃ فی الدر وغیرہ (در وغیرہ میں یہ مسائل تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع