30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا گنجائش،یہ لفظ خطائے شدید ہے آئندہ احترام لازم،زنا کا عذاب صرف زانی وزانیہ پر ہے اولاد زناپر اس کا وبال نہیں۔قال الله تعالٰی : وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ [1](ایك کابوجھ دوسرے پر نہیں۔ت)حدیث میں ہے:
|
لیس علی ولدالزنا من وزرا بویہ شیئ[2]۔رواہ الحاکم عن الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔ |
ولد زنا پر اس کے والدین کا بوجھ کچھ نہیں ہے(اس کو حاکم نے عائشہ رضی الله تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے۔ت) |
حدیث صحیح میں اولاد زنا کی نسبت اس قدر واردہے کہ:
|
ولدالزنا شرالثلثۃ [3]۔رواہ الامام محمد وابوداؤد والحاکم والبیھقی فی السنن عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔ |
حرام کا بچہ اپنے ماں باپ سے بھی بد ترہوتاہے(اس کو امام محمد،ابوداؤد،حاکم اور بیہقی نے سنن میں ابو ہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ت) |
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ بھی وہی حرکات اختیار کرے،خود دوسری حدیث میں اس مطلب کی تصریح ارشاد ہوئی کہ:
|
ولدالزنا شرالثلثۃ اذا عمل بعمل ابویہ ٤[4]۔رواہ الطبرانی فی الکبیر والبیہقی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما بسند حسن۔ |
حرامی اپنے ماں باپ سے بھی بدتر ہے جبکہ ان کی طرح وہی کام کرے،(اس کو طبرانی نے کبیرمیں اور بیہقی نے ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے بسند حسن روایت کیا ہے۔ت) |
یا یہ معنی کہ یہ عادتوں خصلتوں میں غالبًا ان سے بھی بد تر ہوتاہے جبکہ علم وعمل اس کی اصلاح نہ کریں کہ برے تخم سے بری ہی کھیتی پیداہوتی ہے ؎
شمشیرنیك زاہن بدچوں کند کسے
(ناقص لوہے سے اچھی تلوار کوئی کیسے بنائے۔ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع