30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عجب نہیں کہ اس حدیث کا منشا بھی یہی ہو کہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
من اسلم من اھل فارس فھو قرشی [1]۔رواہ ابن النجار عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
اہل فارس سے جو اسلام لائے وہ قرشی ہے(اسے ابن نجار نے ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت) |
کہ قریش نے فارس فتح کیا اس کے لوگ ان کے ہاتھوں مشرف باسلام ہوئے اس مذہب کی بناپر جو شخص جس کے ہاتھ مسلمان ہوگا بطور رشتہ ولاء اسی قوم میں گنے جانے کے قابل ہوگا،والله تعالٰی اعلم۔
(٢)زید جبکہ خود اپنی ذات سے مسلمان ہوا تو اسے دربارہ نکاح کفو و ہمسر ہونے کا حق اسی عورت پر پہنچتاہے جو خود مسلمان ہوئی ہو،جس لڑکی کا باپ مسلمان ہوا اور اس کے اسلام کی حالت میں یہ لڑکی پیدا ہوئی خود مسلمان ہونے والا اس کا بھی کفو نہیں۔
|
فی الدرالمختار اما فی العجم فتعتبر حریۃ واسلاما فمسلم بنفسہ غیر کفو لمن ابوھا مسلم ومن ابوہ مسلم غیر کفو لذات ابوین وابوان فیھما کالاباء لتمام النسب بالجد [2] اھ مختصرا۔ |
درمختار میں ہے کہ عجمیوں میں آزاد،مسلمان ہونا کفو ہے۔لہذا جو شخص خود مسلمان بناوہ ایسے کےلئے کفو نہیں جس کا باپ مسلمان بنا،اورجس کا باپ مسلمان ہو وہ ایسے کا نہیں جس کے دو باپ یعنی باپ اور دادا مسلمان ہوچکے ہوں،اس معاملہ میں دو مسلمان باپ متعدد مسلمان آباء کی طرح ہیں کیونکہ نسب دادا پر مکمل ہوجاتاہے اھ مختصرا۔(ت) |
اور اس کے سواپانچ صورتیں اس نکاح کی اور ہیں۔
۱ایك یہ کہ عورت عاقلہ جس کا کوئی ولی نہ ہوبرضائے خود اس سے نکاح کرے۔
۲دوم ایسی عورت کا ولی بھی پیش از نکاح اسے نو مسلم جان کر اس کے ساتھ نکاح کرنے
پر صراحۃً اپنی رضا ظاہر کردے۔
۳سوم نابالغہ کا باپ یا یتیمہ کا دادا اس کے ساتھ نکاح کردے
جبکہ اس سے پہلے کسی نابالغہ کا نکاح اپنی ولایت سے کم قوم یا کسی طرح کے غیر
کفومیں نہ کرچکا ہو۔
۴چہارم مجہول النسب لڑکی کوحاکم اسلام اپنی ولایت سے اس کے نکاح میں دے دے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع