30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
البزازی وارتضاہ الکمال وغیرہ والوجہ فیہ ظاھر [1] الخ وفی ردالمحتار عن الخیر الرملی عن مجمع الفتاوی عن المحیط العالم یکون کفو اللعلویۃ لان شرف الحسب اقوی [2]الخ۔قال وذکر ایضا یعنی الرملی انہ جزم بہ فی المحیط والبزازیۃ والفیض وجامع الفتاوی والدر [3]الخ۔وتمامہ تحقیقہ فیہ، وفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ،قال ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما للعلماء درجات فوق المؤمنین بسبعمائۃ درجۃ مابین کل درجتین مسیرۃ خمسمائۃ عام و ھذا مجمع علیہ وکتب العلم طافحۃ بتقدم العالم علی القرشی ولم یفرق سبحانہ وتعالٰی بین القرشی وغیرہ فی قولہ تعالی ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون ٤[4] اھ ملتقطا۔ قلت وانما قید نابکونہ دینا متدینا لانہ ھو العالم حقیقۃ واما اصحاب الضلال فشرمن الجہال فان الجہل المرکب اشنع واخنع وصاحبہ فی الدارین احقر و اوضع، صغارھم کالانعام بل ھم اضل وکبارھم کالکلاب لابل اذل،اخرج الدارقطنی |
کمال وغیرہ نے اس کو پسند فرمایا ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے الخ۔ اور ردالمحتار میں خیرالدین رملی سے انھوں نے مجمع الفتاوی سے نقل کیا کہ محیط میں ہے کہ عالم،علوی لڑکی کا کفو ہے کیونکہ عہدہ کی شرافت اقوی ہے الخ،اور فرمایا کہ رملی نے مزیدذکرکیا کہ محیط، بزازیہ،فیض،جامع الفتاوی اور در نے اس پر جزم کیا ہے، اور اور فتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما نے فرمایا: علماء کو عام مومنین پر سات سو درجات برتری ہے اور ہر دو درجوں میں پانسو سال کا سفر ہے اور اس پر اجماع ہے اور تمام علمی کتب،قرشی پر عالم کے تقدم میں متفق ہیں،جبکہ الله تعالٰی نے اپنے ارشاد"کیا عالم اور جاہل برابر ہیں"میں قرشی اور غیر قرشی کی کوئی تفریق نہیں فرمائی اھ ملتقطا۔ قلت(میں کہتاہوں)ہم عالم کو دین کاعالم اور دین دار عالم سے مقید کریں گے کیونکہ حقیقۃً عالم یہی ہے جبکہ گمراہ علماء تو جاہلوں سے بدتر ہیں کیونکہ جاہل مرکب،انتہائی برا،رسوا،اور دونوں جہاں میں وہ حقیر اور ذلیل ہیں،ان کے چھوٹے چوپایوں کی طرح بلکہ اس سے بھی گئے گزرے،اور ان کے بڑے،کتے بلکہ ذلیل ترین ہیں، دار قطنی نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع