30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تطلیقۃ بائنۃ کذافی الکافی ولھا المھر کاملاوعلیھا العدۃ بالاجماع ان کان الزوج قد خلابھا والا فلا عدۃ علیھا ولھا نصف المھر ان کان مسمی و المتعۃ ان لم یکن کذافی البدائع [1] واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
طلاق بائنہ ہوگی،جیساکہ نہر میں ہے اور اسے پور ا مہر دیاجائے گا،اور بالاجماع اس پر عدت ہوگی بشرطیکہ خاوند اس سے خلوت کرچکا ہو ورنہ عدت نہ ہوگی اورمہر بھی نصف دیاجائیگا جب مقرر ہو،اور اگر مقرر نہ ہو تو پھر جوڑا وغیرہ دیا جائے گا جیساکہ بدائع میں ہے،والله تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ٤٣٨: ٢٢ شوال ١٣١٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ایك شخص اجنبی عمرو کے مکان پر رہتا ہے،عمرو نے وارثان ہندہ کے بہکاکر اور دھوکا دے کر زید کا نسب سید بتایا اور نکاح کرادیا،بعد کچھ مدت کے معلوم ہواکہ وہ سید نہیں نور باف ہے،اب وارثان ہندہ کو شرم معلوم ہوتی ہے اور بہت اہانت ہے کہ سید اور نورباف کا نکاح بہت عار ہے،لہذا وارثان ہندہ کو فسخ کرنافی زماننا جائز ہے یا نہیں؟ زید بعد ظاہر ہونے حال کے وہاں سے چلا گیا وقت رخصت زوجہ سے قسم کھا کر کہامیں اس قریہ میں تاحیات نہ آؤں گا،پھر اس مضمون کا خط لکھ کر بھیجا اب اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں کچھ حاجت فسخ نہیں کہ وہ نکاح سرے سے خود ہی نہ ہوا،سائل مظہر کہ ہندہ بالغہ ہے اور روایت مفتی بہا پر ولی والی عورت کے لئے کفاءت شرط صحت نکاح ہے یا ولی اقرب پیش از عقد عدم کفاءت پر دانستہ اپنی رضا ظاہر کردے بعد عقد راضی ہوجانا بھی نفع نہیں دیتا۔
|
فی ردالمحتار تعتبر الکفاءۃ للزوم النکاح علی ظاھر الروایۃ ولصحتہ علی روایۃ الحسن المختار للفتوی [2] اھ وفی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا |
ردالمحتار میں ہے کہ کفو کا اعتبار نکاح لازم کرنے کے لئے ہے جیسا کہ ظاہر روایت ہے،اورا مام حسن رحمہ الله تعالٰی کی روایت پر صحت نکاح کے لئے ہے اور یہی فتوی کے لئے مختار ہے اھ، درمختارمیں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے اصلا ناجائز ہونے کا فتوی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع