30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مہر میں غبن فاحش کے ساتھ کرچکے ہوں تو یہ نکاح ان کا کیا ہوا بھی صحیح نہیں ہوتا۔
|
فی الدرالمختار لزم النکاح ولو بغبن فاحش اوبغیر کفو ان کان الولی المزوج بنفسہ ابا اوجدا لم یعرف منھما سوء الاختیار وان عرف لا یصح النکاح اتفاقا وکذا لو کان سکران،وان کان المزوج غیر الاب وابیہ ولوا لام لایصح النکاح من غیر کفواو بغبن فاحش اصلا وان کان من کفو وبمھر المثل صح ولکن لصغیر وصغیرۃ خیار الفسخ بالبلوغ اوالعلم بالنکاح بعدہ بشرط القضاء للفسخ وبطل خیار البکر بالسکوت لو مختارۃ عالمۃ باصل النکاح ولایمتد الٰی اٰخر المجلس وان جھلت بہ،خیار الصغیر والثیب اذا بلغا لایبطل بالسکوت بلاصریح رضا او دلالۃ علیہ کقبلۃ ولمس [1] اھ ملتقطا، وفیہ عن النھر بحثا لو عین(ای الاب او الجد)لو کیلہ القدر(ای قدر المھر)صح ٢[2]اھ موضحا، وفی ردالمحتار وکذا لوعین لہ |
درمختار میں ہے کہ جب نکاح دینے والا باپ دادا ہوتو غیر کفو اور انتہائی کم مہر کی صورت میں بھی نکاح ہوجائیگا بشرطیکہ وہ باپ دادا سوء اختیار میں مشہور نہ ہوں،اور اگر وہ اس میں مشہور ہوں تو بالاتفاق نکاح صحیح نہ ہوگا،اور یہی حکم ہے جب وہ نشہ میں ہوں،اور اگر نکاح دینے والے باپ دادا کا غیر ہوں خواہ ماں ہو تب بھی غیر کفو اور غبن فاحش یعنی انتہائی کم مہر کی صورت میں نکاح صحیح نہ ہوگا۔ہاں اگر مہر مثل اور کفو میں یہ نکاح ہو تو صحیح ہوگا لیکن لڑکی کو بلوغ یا بلوغ کے بعد علم پر فسخ کا اختیار ہوگا بشرطیکہ قاضی فسخ کرے،مذکورہ صورت میں اگر لڑکی عاقلہ بالغہ ہو اور غیر کفو کا کیاہوا نکاح سُن کر خاموش رہے بشرطیکہ نکاح کا علم رکھتی ہو تو اس کا اختیار باطل ہوجائے گا،اور اس کا اختیار مجلس کے آخر تك باقی نہ رہے گا اگرچہ وہ اپنے اختیار کاعلم نہ رکھتی ہو،اور اگر نابالغ لڑکا ہو یا لڑکی ثیبہ ہو تو بلوغ پر محض سکوت سے اختیار ختم نہ ہوگاجب تك صریح رضا یا ا س کے قائم مقام کوئی عمل مثلا بوس وکنار نہ کرے اھ ملتقطا، اسی میں نہر سے منقول ایك بحث ہے کہ اگر باپ دادا نے پورے مہر کی شرط پر غیر کو وکیل بنایا تو نکاح صحیح ہوگا اھ وضاحت ہے،ا ور ردالمحتار میں ہے کہ ایسے ہی ہوگا جب انھوں نے کفو کی شرط |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع