30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ای غیر الاب وابیہ لایصح النکاح من غیر الکفو اصلا ومافی صدر الشریعۃ صح ولھما فسخہ وھم [1]۔(ملخصا) |
اصلا نکاح نہ ہوگا۔او رجو صدرالشریعۃ میں ہے کہ نکاح صحیح اور باپ دادا کو اس کے فسخ کا اختیار ہے یہ صرف وہم ہے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
وتعتبر فی العرب والعجم دیانۃ ای تقوی فلیس فاسق کفوا لصالحۃ او فاسقۃ بنت صالح معلنا کان اولا علی الظاھر نھر [2]۔انتھی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
عرب وعجم میں کفاءت دینداری یعنی پرہیزگاری کی معتبر ہے،دیانت سے مراد تقوی ہے،لہذا کوئی فاسق کسی صالحہ یا فاسِقہ بنت صالح کے لئے کفو نہیں بن سکتا،فسق اعلانیہ ہو یا غیر اعلانیہ،یہ ظاہر الروایت ہے،نہر انتہی،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٤٣٤:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ سید زادی کا نکاح اس کے چچا نے گیارہ برس کی عمر میں بے اطلاع باپ کے ان کی غیبت میں زید پٹھان سے کردیا،آیایہ نکاح جائز ہوا یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
الجواب
پٹھان سیدزادی کا کفو نہیں ہوسکتا،تو یہ نکاح کہ بے اطلاع پدر تھا،عام از انکہ ہندہ اس وقت بالغہ ہو خواہ نابالغہ اس نکاح پر راضی تھی خواہ ناراض مطلقا محض باطل واقع ہوا،یہاں تك کہ اب اگر اس کا باپ بھی جائز رکھے تو درست نہیں ہوسکتا،زید وہندہ کو باہم قربت ناروا،اور ہندہ اب اگر بالغہ ہو توا سے ورنہ اس کے ولی کو اختیارہے کہ بے طلاق لئے جس سے چاہے نکاح کردے،زید ہرگز مزاحم نہیں ہوسکتا کہ مذہب مفتٰی بہ پر وہ محض اجنبی ہے،
|
فی ردالمحتار عن کافی الامام الحاکم الشہید، قریش بعضھا اکفاء لبعض والعرب بعضھم اکفاء لبعض ولیسوا باکفاء لقریش ومن کان لہ من الموالی ابوان اوثلثۃ فی |
ردالمحتار میں ہے کہ امام حاکم شہید کی کافی میں ہے کہ قریش ایك دوسرے کے لئے کفو ہیں،اور عرب ایك دوسرے کے لئے کفو ہیں مگر قریش کے لئے کفو نہیں اسلام میں اگر کسی کے دو باپ یعنی باپ دادا،یا تین۳ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع