30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالتسلیم وماجری مجراہ [1]۔ |
ہوچکی ہو یا اس کے قائم مقام کوئی معاملہ ہو۔(ت) |
اور اگر لیلٰی کے شہر میں کوئی قاضی نہ ہو تو اس کی تدبیر ہم مسئلہ مفقود میں لکھ چکے ہیں واﷲ اعلم بالصواب والیہ سبحانہ وتعالٰی المرجع والماٰب(الله تعالٰی ہی درستی کو جانتا ہے اور اس کی پاك ذات کی طرف ہی پناہ اور لوٹنا ہے۔ت)
مسئلہ ٤٣١: ١٠ ربیع الاول شریف ١٣٠٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك زن بازاری کے لڑکا پیدا ہوا جب وہ لڑکا سن بلوغ کو پہنچا تب اس نے دین اسلام قبول کیا اب جو شخص کہ پہلے سے اہل اسلام تھا اسے اپنی لڑکی صغیرہ کا نکاح اس کے ساتھ کردینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
جائزہے،قال الله عزجلالہ: وَ لَا تُنۡکِحُوا الْمُشْرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوۡاؕ[2]الآیۃ مشرکوں سے نکاح نہ کرو جب تك وہ مومن نہ ہوجائیں۔ت) مگر یہ نکاح غیر کفو کے ساتھ ہے دو وجہ سے:
اولًا عورت قدیمی مسلمان ہے اور یہ شخص نو مسلم،اور نو مسلم مسلمان قدیم کا کفو نہیں،
|
فی الدرالمختار مسلم بنفسہ غیر کفو لمن ابوھا مسلم [3]۔ |
درمختار میں ہے: خود مسلمان ہونے والا ایسی لڑکی کا کفونہیں ہے جس کا باپ مسلمان ہوا ہو۔(ت) |
ثانیًا اس کی ماں زنا ن بازاری سے تھی اور ان بلاد کا عرف عام ہے کہ ایسے شخص سے نکاح کردینا اولیائے زنان کے لئے قطعًا موجب عارہوتا ہے اوریہی مبنائے عدم کفاءت ہے۔
|
فی الفتح القدیر الموجب ھو استنقاص اھل العرف فید ورمعہ [4]۔ |
فتح القدیر میں ہے: اس کا سبب اہل عرف کا ناقص سمجھنا ہے لہذا حکم کا مدار یہی بنے گا(ت) |
لہذا اس میں ان سب شرائط کالحاظ واجب ہوگا جو غیر کفو سے نکاح کرنے میں ہیں مثلا جبکہ دختر نابالغہ ہے اور باپ برضائے خود اس شخص کے نکاح میں دینا چاہتاہے تولازم ہے کہ اس سے پہلے اپنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع