30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دھوکا بھی دیا یہ اس وقت تك کہ اس کے احوال سے آگاہ نہ تھے۔نہ اب زید کاپتاہے(کہ اسے بلا کر اس کے حضور مقدمہ سنا جائے)یا پتا معلوم ہے تو وہ ایسی جگہ ہے جہاں قاضی نہیں(کہ مقدمہ ترتیب دے کر گواہ سن کر بلحاظ شرائط کتاب القاضی الی القاضی وہاں بھیج دیں کہ وہ قاضی اسے دارالقضا میں حاضر کرکے بمواجہہ فریقین حکم فسخ سنادے)اور زید کو یہاں بلاتے ہیں توآتا نہیں اور اس پر جبرکا کوئی طریقہ نہیں،غرض ہر طرح قاضی مذکور ضرورت ومجبوری ملاحظہ کرلے اس وقت زید کے عزیزوں یادوستوں سے کسی کو اور وہ نہ ملیں تو اور کسی بے لگاؤ متدین آدمی کو زید کانائب ووکیل قرار دے کر اس کے حضور مقدمہ سنے اور بعد ثبوت کامل نکاح فسخ کردے اور از انجا کہ حسب تصریح سوال ہنوز زید ولیلٰی میں خلوت نہ ہوئی تھی اصلا انتظار و عدت کی حاجت نہیں حکم قاضی ہوتے ہی فورًا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے،فتاوی قاضی خان میں ہے:
|
لایکون الفسخ لعدم الکفاءۃ الاعند القاضی لانہ مجتھد فیہ [1] الخ۔ |
کفو نہ ہونے کی وجہ سے فسخ صرف قاضی کی موجودگی میں ہوسکتاہے کیونکہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے۔الخ(ت) |
درمختار میں ہے:
|
شرط للکل القضاء لا ثمانیۃ[2] الخ۔ |
ہر فسخ کے لئے قضا شرط ہے ماسوائے آٹھ صورتوں کے الخ۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
فیہ ایماء الی ان الزوج لو کان غائبا لم یفرق بینھما مالم یحضر للزوم القضاء علی الغائب نھر [3]۔ |
اسی میں اشارہ ہے کہ اگر خاوند حاضر نہ ہو تو اس کی حاضری تك تفریق نہ کی جائے گی تاکہ قضاء علی الغائب لازم نہ آئے۔نہر(ت) |
اور اسی میں ہے:
|
قال فی جامع الفصولین الظاھر عندی ان یتأمل فی الوقائع ویحتاج ویلا حظ الحرج والضرورات فیفتی |
جامع الفصولین میں کہاہے کہ میرے نزدیك ظاہر یہ ہے کہ واقعہ پر غور کیا جائے اور احتیاط کی جائے اور حرج اور ضروریات کا اندازہ کیا جائے تاکہ اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع