دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

مسئلہ ٤٢٢:         ازلکھنؤ چھتر منزل کلب مسئولہ عبدالرحیم خان صاحب قادری رضوی ٦ رجب ١٣٣٩ھ پنجشنبہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید کسی وجہ سے اپنا نکاح پڑھانے نہیں جاسکتا تو اپنے پیر بھائی کو اپنا ولی بنالیا تو ولی نکاح پڑھاکر لاسکتاہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا

الجواب:

اسے ولی نہیں وکیل کہتے ہیں کسی کو اپنا وکیل کردے کہ میری طرف سے ایجاب وقبول کرآؤ،نکاح پڑھانے والا اس سے کہے کہ فلاں بن فلاں بن فلاں کی سب سے بڑی یا سب سے چھوٹی لڑکی(یا جس طرح تعیین ہو)میں نے تیرے موکل فلاں بن فلاں بن فلاں کے نکاح میں اتنے مہر پردی،وکیل کہے کہ میں نے اپنے موکل مذکور کی طرف سے اس کے لئے قبول کی،یاوکیل خود عورت یا اس کے وکیل یا نابالغہ ہے تو اس کے وکیل سے کہے کہ میں نے تجھے یا فلانہ بنت فلاں بن فلاں کو تیری موکلہ ہے یا جس کا تو ولی ہے اپنے موکل فلاں بن فلاں بن فلاں کے نکاح میں لیا عورت یا اس کا وکیل یا ولی کہے میں نے قبول کیا نکاح ہوجائے گا۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٤٢٣: از تلہر ضلع شاہجہان پور محلہ عمر پور مسئولہ شیخ سلامت الله صاحب پارچہ فروش ٢٠ رمضان ١٣٣٩ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ کتنی عمر میں لڑکی کا نکاح جائز اور کتنی عمر کا ہو تو ناجائز یعنی لڑکا سن بلوغ بحکم شرع کتنی عمر میں ہوتاہے،کتنی عمر مدت سال کی ہوتو نکاح جائز ہوتا ہے جب کہ اس کا کوئی حقیقی شخص وکیل مطلق نہ ہو،بینوا تو جروا

الجواب:

جب آثار بلوغ ظاہر ہوں لڑکے کو احتلام لڑکی کو حیض،اس وقت سن بلوغ ہوتاہے،اوراگر آثار نہ ہوں تو پندرہ برس پوری عمر ہونے پر حکم دیا جائے گا،اگر لڑکی نو برس کامل یا لڑکا بارہ برس کامل کاہوچکاہے اور وہ دعوی بلوغ کریں اوران کی ظاہری حالت اس دعوے کی تکذیب نہ کرتی ہو تو ان کا قول مان لیا جائے گا جب تك ان صورتوں میں سے کسی صورت پر بلوغ ثابت نہ ہو وہ بغیر اذن ولی کے اپنا نکاح نہیں کرسکتے،والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٤٢٤:         از لصرات پر گنہ پڑادہ ریاست علاقہ ٹونك محلہ سلطانپورہ مسئولہ ابراہیم صاحب ٢٨ رمضان ١٣٣٩ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی بیوی سے ١٤سال سے علیحدہ رہتا ہو عورت حاملہ تین ماہ کی ہواسی حمل سے لڑکی پیدا ہوئی اور لڑکی نے چودہ سال تك اپنی ماں کے پاس پرورش پائی باپ نے کسی قسم کی امدا د نہیں دی نہ کبھی لڑکی کو بلواکر دیکھا،ایسی صورت میں جوان لڑکی ١٤ سال کی بالغ ہوگئی ہے لڑکی نے اپنی خوشی اور اس کی والدہ نے اپنی اجازت سے لڑکی کا نکاح کردیا باپ موجود نہ تھانکاح بھی ہم قوم سے ہوا یعنی غیر قبیلہ میں نہیں ہوا،یہ نکاح جائز رہا یا نہیں۔بینوا تو جروا


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن