30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
محض اقبال بعد انکار تجدید ایجاب وقبول فائدہ دارد یا نہ ؟بینواتوجروا |
پھر انکار کردیا،کیا پہلے انکار پر نکاح باطل ہوا یا نہ؟ انکار کے بعد صرف ایجاب وقبول سے نکاح ہوگا یا نہیں؟ بیان کرو اجرپاؤ۔(ت) |
الجواب:
|
نکاح بالغہ کہ برادرش بے اجازت پدر کر د نکاح فضولی بود براجازت پدر موقوف چوں پدر باستماع خبر انکار کرد فورًا باطل شدوباطل راعود نیست باز راضی شدن پدر بکار نیاید تااز سرنو ایجاب وقبول پیش شہود نہ کنند در درمختار است بلغھا فردت ثم قالت رضیت لم یجز لبطلانہ بالرد ١[1] در ردالمحتار ست لان نفاذ التزویج کان موقوفا علی الاجازۃ وقد بطل بالرد [2]، در بحر الرائق ست الاجازۃ شرطھا قیام العقد [3]۔والله تعالٰی اعلم۔ |
بھائی نے باپ کی اجازت کے بغیر نابالغہ کا جو نکاح کیا وہ فضولی کا نکاح ہے اور باپ کی اجازت پر موقوف ہے جب باپ نے خبر سنتے ہی انکار کردیا تو نکاح فورًا باطل ہوگیا اور باطل شدہ دوبارہ صحیح نہیں ہوسکتا ہے اس کے بعد باپ کا راضی ہونا بے فائدہ ہے جب تك دوبارہ گواہوں کی موجود گی میں نیا ایجاب وقبول نہ کریں صحیح نہ ہوگا۔درمختار میں ہے کہ اگر لڑکی نے خبر ملنے پر نکاح رد کردیا پھر کہاکہ میں راضی ہوں تو جائز نہ ہوگا۔کیونکہ وہ ردکی وجہ سے پہلے باطل ہوچکاہے،ردالمحتار میں ہے کیونکہ نکاح کا نفاذ اجازت پر موقو ف تھا جبکہ رد کرنے سے باطل ہوچکاہے، بحرالرائق میں ہے اجازت کے لئے عقد نکاح کاباقی ہونا شرط ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٤٢١ تا ٤٢٢: از ضلع بلاسپور امام مسجد اکلترا
ایك بڑھیا کی لڑکی تھی اس کی برادری والے بلارضامندی شادی کرنے لگے،بڑھیا مذکور نکاح کے وقت نامناسب رہنے پر دوسری کوٹھری پر روتی تھی اور یہ خبر نہیں کہ میری لڑکی کا کیا ہو رہا ہے،لڑکی کی عمر پانچ یا چھ سات سال کی تھی،اس لڑکی کو یہ کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہو رہایا کیا ہوا،اس لڑکی مذکور کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع