30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نالش کریں گے،سواب لڑکی کی ماں نکاح لڑکی کا کرنے پر راضی ہے اور کہتی ہے کہ ہم راضی ہیں نکاح پڑھوالو،اور یہ کہا کہ شوہر میرا کہہ گیا تھا کہ ہم مکان سے واپس آکر شادی کریں گے اس وجہ سے ہم نہیں راضی ہوئے تھے،سو اب ان کا کچھ پتہ نہیں ہے،میں خوشی سے کہتی ہوں کہ قاضی کو بلاکر ایجاب وقبول کرکرالو،اور لڑکی بھی اپنے برے بھلے کو پہچانتی ہے،سو وہ بھی رضامند ہے،اور عرصہ چھ ماہ سے اسی مرد کے ہمراہ گویا رہتی ہے،جو باتیں حق حق تھیں ان کو لکھ کر علمائے دین کے حضور میں پیش کردیا جو کچھ حکم شریعت مطہرہ کاہوبیان فرمائیں،اورذیل میں جو علامات انگوٹھا ہے وہ ان برادریوں کاہے جن کے سامنے لڑکی کے والد نے اقرار کیا اورکپڑا وغیرہ لیا،ان لوگوں کے سامنے یہ سوال لکھاگیا اور دستخط لیا گیا لہذا عدم موجودگی اس کے والد کے نکاح ہونے یا نہ ہونے سے یا جس طرح اور جس قاعدہ سے نکاح ہو اس مسئلہ کو حضور تحریر کریں۔بینوا توجروا
الجواب:
لڑکی اگر نابالغہ ہے تو اس کے نکاح کے لئے ولی کی ضرورت ہے۔ولی اس کا باپ ہے،بے اجازت پدر کسی کو لڑکی کے نکاح کرنے کااختیار نہیں،اورپہلے اس کا راضی ہونا اور وعدہ کرنا اجازت کے لئے کافی نہیں کہ اس نے کسی کو وکیل نہیں کیا،اب اس سے اجازت لی جائے۔اگر اس کا پتہ نہ چلے تو لڑکی کا جوان بھائی ا س کا ولی ہے وہ نہ ہو تو بھتیجا،وہ نہ ہو تو چچا کا بیٹا،اس طرح جو عصبہ ہو،اگر عصبات میں کوئی نہ رہا ہو تو البتہ ا س وقت ماں کو ولایت ہوگی اور اس کی اجازت سے نکاح ہوسکے گا،۔اور اگر لڑکی بالغہ ہے یعنی اسے ماہواری عارضہ آچکاہے تو خود اس کی اپنی اجازت کافی ہے۔مگر بہر حال باپ کے سوا جو دوسرا شخص اس کا نکاح کرے یا بالغہ ہوکر خود کرے یہ ضرور ہوگا کہ جس سے نکاح کیا جائے وہ اس لڑکی سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا لڑکی کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعارہو ورنہ نکاح ہوگاہی نہیں۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٤١٩: از پیلی بھیت محلہ غفار خان مسئولہ حکیم سعید الرحمن خاں صاحب ٨جمادی الاولٰی ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ رفیق بیگم کا نکاح اس کی نابالغی میں جبکہ اس کا باپ دادا زندہ نہ تھے اس کے چچا نے اپنے پسر کے ساتھ کردیا،نابالغہ مذکورہ نے بالغ ہوتے ہی اعلان کردیا کہ اس نے نکاح مذکور کو نامنظور وناپسند کرکے فسخ کردیا اور بذریعہ نوٹس رجسٹری شدہ شوہر کو جو ہنوز نابالغ ہے اور اس کے والد کو بھی اطلاع دے دی،نوٹس یہ لکھ کر واپس آیا بعدا زاں رفیق بیگم نے دیوانی میں نالش کی اور حسب ذیل استدعائے داد رسی کی:"استقرار اس امرکا فرمادیا جائے کہ جو نکاح مدعیہ کا اس کی نابالغی میں ہوا تھا اور جس کو مدعیہ نے بعد بلوغ شرعی کے مسترد کردیا ہے مدعیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع