30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لڑکی جانے پر رضامندنہیں ہے کیونکہ وہ اگلی بیوی کا حال دیکھ چکی ہے،تو یہ نکاح جائزہے یا نہیں؟
الجواب:
سائل نے بیان کیا کہ لڑکی کی عمر وقت نکاح دو مہینے اوپر پندرہ سال کی تھی،اگر یہ بیان اورصورت سوال واقعی ہے تو وہ نکاح فضولی ہوا،اجازت لینے والے اور گواہوں کا رشتہ دار ہونا تو کوئی مخل نہیں،اور بکر کا رونا بھی اذن میں شامل کیا جاتاہے مگر نہ وہ رونا کہ طمانچہ مارنے سے ہو،وہ ہر گز دلیل اجازت نہیں ہوسکتا،تو عقد نہ ہوا مگر عقد فضولی،اورلڑکی کی اجازت پر موقوف رہا،اگر اس نے اظہار اجازت سے پہلے اظہار ناراضی کیا نکاح رد ہوگیا،اور شوہر کو اس پر کوئی دعوی نہیں۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٤١٧: از حیدر آباد دکن قصبہ نارائن پینٹھ جی آئی پی ریلوے کرشنا مسئولہ سید اکرم علی عرف مطلوب شاہ صاحب
مدرس فارسی مدرسہ سلطانیہ درجہ اول ١٣ صفر ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ عاقلہ بالغہ حرہ مکلفہ باکرہ نے بلااجازت ولی جائز اپنا عقد دوگواہان شرعی کے رو برو اپنے ایك ہم کفو سے کرلیا،پس یہ نکاح ازروئے مذہب حنفی ہوا یا نہیں؟ اگر ہوا تو کیا ولی جائز فسخ کرکے بلا طلاق وخلع ہندہ کا عقد کسی مالدار سے جبرًا کرنا چاہتاہے اگر کردے تو اس کاوبال کس پر ہوگا؟ اور یہ فعل اس کا کس حد تك جائز ہے؟ کیا رواج عرف عام قانون شرع شریف پر کسی حالت میں مرجح ہوسکتاہے اور ولی جائز کا جھوٹا حلف ہندہ کے مقابلہ میں معتبر ہوگا یا ہندہ کا قول؟ بینوا تو جروا
الجواب:
شرعا کفوکے معنی یہ ہیں کہ مذہب یا نسب یا پیشہ یا چال چلن کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس کے ساتھ اس عورت کا نکاح اولیائے زن کے لئے باعث ننگ وعار ہو،اگر وہ اس معنی پر کفو ہے تو حرہ مکلفہ کا برضائے خود بے اجازت ولی اس سے نکاح نافذ ولازم ہے،ولی اسے ہر گز فسخ نہیں کرسکتے،اگر بلا طلاق اس کا نکاح دوسری جگہ کردیں گے باطل محض ہوگا،اوراس میں قربت زنائے خالص جس کا وبال مرتکب تزویج پر ہوگا۔عالمگیریہ میں ہے:
|
نفذ نکاح حرۃمکلفۃ بلاولی [1]۔ |
آزاد عاقلہ بالغہ کا نکاح بغیر ولی نافذ ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:نفذ نکاح حرۃ مکلفۃ بلا رضی ولی [2](ولی کی رضا کے بغیر بھی حرہ عاقلہ بالغہ کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع