30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلااجازت زید کے اپنے کفو بکر کے ساتھ نکاح کیا،زید سن کر نہایت ناخوش ہوکر بکر کے مکان سے حیلہ وبہانہ کرکے ہندہ کو اپنے مکان میں لے آیا،پھر ہندہ سے کہا کہ یہ نکاح جائز نہیں ہوا اس لئے کہ میں تیرا باپ ہوں بلااجازت باپ کے نکاح صحیح نہیں۔اس حال میں ایك سال سے زیادہ گزرگیا،پھر زید نے ہندہ کانکاح عمرو کے ساتھ کیا،اب دریافت طلب امریہ ہے کہ نکاح ثانی صحیح ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جو اولاد عمرو سے ہوئی اس کا اور زید کے شرع شریف میں کیا حکم ہے زید امام ہوسکتاہے یا نہیں؟ اور اگر نکاح ثانی صحیح ہے تو بکر پر مہر مثل لازم ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
پہلا نکاح عورت نے جس سے کیا تھا اگر وہ کفو شرعی تھا یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم نہ تھاکہ اس کے ساتھ عورت کا نکاح ہونا عورت کے باپ کے لئے باعث ننگ وعار ہو تو وہ پہلا نکاح ہوگیا اور یہ دوسرا نکاح باطل ہوا،عورت کا باپ اور یہ دوسرا شوہر دونوں سخت کبیرہ کے مرتکب ہیں،اور بچہ جو پیدا ہوا وہ پہلے شوہر کا ہے،اس صورت میں زید کو امام کرنا گناہ ہے جب تك توبہ کرے،اور اگر پہلا نکاح عورت نے جس سے کیا وہ بمعنی مذکور کفو شرعی نہ تھا تو وہ پہلا نکاح باطل ہوا دوسرا نکاح صحیح ہوا،بچہ اس دوسرے شوہر کا ہے،زید وعمرو پر کوئی الز ام نہیں ان کے پیچھے نماز اس وجہ سے ممنوع نہیں،پہلا نکاح جس سے ہوا تھا اگر وہ قربت کرچکا ہے تو اسے مہر مثل دینا آئے گا یعنی ایسی عورت کا جتنا مہر ہو جو مہر بندھا تھا اس کا لحاظ نہ کیا جائے گا۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٤١٥: از موضع اٹریا ضلع بریلی مسئولہ قمرالدین صاحب یکم صفر المظفر ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت رانڈ تھی اور بالغہ تھی کیونکہ اس کے ایك لڑکا پیدا ہوچکا تھا اس رانڈ نے عقد ثانی کے واسطے ایك شخص کو جو اسی کی ذات کا تھا اور جوان بھی تھا اور علم دار بھی تھا اورر وٹی کپڑے سے خوش تھا تجویز کی مگر اس جوان کے واسطے اس رانڈ کا والد نکاح کرنے کو راضی نہ تھا،زیدنے کچھ لالچ پاکر اس شخص کی طرف سے جس کے ساتھ رانڈ کا والد راضی بریلی سے تعویز اور مٹھائی لے جاکر کھلایا تاکہ اس کا خیال اس جوان کی طرف ہو جس سے اس کا والد راضی تھا،اور زید نے مٹھائی کھلاتے وقت اس شخص کا نام لیا کہ وہ رانڈ جس سے راضی تھی کہ تم کو میں اس شخص کی طرف سے مٹھائی کھلاتاہوں جس سے کہ تم راضی ہو،اس کے بعد میں اس رانڈ کا نکاح اس شخص کے ساتھ زبردستی کرادیا جس سے وہ رانڈ ناراض تھی اور زبردستی چندآدمی پکڑکر اس شخص کے یہاں پہنچا آئے،یہ نکاح درست ہے یا نہیں؟ اور زید کو انجمن کی طرف سے صدربنایا ہے اب زید کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ انجمن والوں نے زید کو صدر ممبر بنایا تو ان کو یہ قصہ معلوم نہیں تھا اور یہ نکاح زبردستی زید ہی کی کوشش سے ہواتھا،بینوا تو جروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع