30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٤١١ تا ٤١٢: از مقام بلیا ڈاکخانہ رسٹرا مسئولہ مولوی حکیم عبدالشکور صاحب ٢٨ شوال ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ جس کی عمر تخمینًا دس برس کی تھی بعد انتقال اپنے والدین کے اپنے حقیقی چچا زید سے خفا ہوکر اپنے حقیقی ماموں کے گھر چلی گئی اوروہاں رہنے لگی،کچھ عرصہ کے بعد اس کے ماموں نے ہندہ کا عقد قبل بلوغ مسمی بکرسے بلااجازت حقیقی چچا کے اس شرط پر کیا کہ تم جب میری بستی میں آکر مکان بناؤ گے اس وقت ہم لڑکی رخصت کریں گے،اب بکر اس بستی میں مکان نہیں بناتا ہے اورلڑکی رخصت کراکر لے جانا چاہتا ہے اور لڑکی وہاں جانے پر راضی نہیں،کیا حقیقی چچا کے موجود ہوتے ہوئے اس کے ماموں نے عقد کردیا تو یہ عقد شرعًا درست ہوا یا نہیں؟
دوم جب بکرنے اس بستی میں مکان نہیں بنایا تو عقد فسخ ہوگا یا نہیں؟ بینوا تو جروا
الجواب:
بے اجازت چچا کے ماموں نے جو نکاح کیا جائزوصحیح ہوا،مگر چچا کی اجازت پر موقوف تھا،اگر وہ رد کردیتا رد ہوجاتا،مگر عبارت سوال سے ظاہر کہ اس نے رد نہ کیا نکاح پر راضی ہوا دوسری جگہ لے جانے پر راضی نہیں،جب صورت یہ ہے تو وہ نکاح نافذ بھی ہوگیا لڑکی کو خیار بلوغ ملا،عبارت سوال سے ظاہر ہے کہ لڑکی نے جسے بالغہ ہوئے کئی سال گزرے اس خیار کا استعمال نہ کیا،وہ بھی نفس نکاح سے ناراض نہیں بلکہ دوسری جگہ جانے سے۔ پس صورت مذکورہ میں نکاح لازم ہوگیا اور کسی کو اس پر اعتراض کا اختیار نہ رہا۔اس گاؤں میں مکان بنانے کی شرط فاسد ہے،اور شرط فاسد سے نکاح فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرط ہی باطل ہوجاتی ہے،اسے اختیار ہے کہ عورت کو اپنے گھر لے جائے،قال الله تعالٰی:
|
اَسْکِنُوۡہُنَّ مِنْ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجْدِکُمْ [1]۔ |
بیویوں کو اپنی سکونت کے ساتھ سکونت گنجائش کے مطابق دو۔(ت) |
ہاں اگر ظاہر ہو کہ شوہر عورت کو ضرور ایذا دینے کے لئے دوسری جگہ لے جانا چاہتا ہے اوریہاں رکھنا نہیں چاہتا تولے جانے کی اجازت نہ دیں گے۔
|
وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ ؕ[2]۔ھذا حاصل ماحط علیہ کلام المحققین وعلیك برد المحتار۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بیویوں کو تنگ کرنے کے لئے ضرر مت دو،محققین کے کلام کا مصداق یہی ہے،آپ پر ردالمحتار کی طرف رجوع ضروری ہے،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع