30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعلٰی ہیں،اور مغل پٹھان باعتبار قوم ہم کفو ہیں،اس کے باپ کا اعتراض باطل ہے اور اسے کوئی اختیار فسخ نہیں،نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الایم احق بنفسھا [1](بے نکاح عاقلہ بالغہ کو اپنے نفس پر زیادہ اختیار ہے۔ت)الله عزوجل فرماتا ہے:
|
وَلَنۡ یَّجْعَلَ اللہُ لِلْکٰفِرِیۡنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۱۴۱﴾٪ [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
الله تعالٰی کافروں کو مومنوں پر ہر گز ولایت نہیں دے گا۔ والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٤١٠: کوہ رانی کھیت متصل جامع مسجد مسئولہ عبدالرحمان صاحب خانساماں ٩ محرم ١٣٣٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس بارے میں کہ ایك شخص اہلسنت وجماعت نے ایك رافضی کی بیوی سے کہا کہ تو مجھ سے مل،تو اس رافضی کی عورت نے کہا کہ اس شرط پر ملوں گی اگر تو اپنی بیٹی کی شادی میرے بیٹے سے کرے،اس شخص مذکور نے اس شرط کو قبول کیا اورمدت دراز تك زناکاری رہی اور ابھی تك موجود ہے،اب وہ لڑکی اہلسنت کی جوان ہوگئی ہے اور شخص مذکور اس کی شادی اس رافضی سے کرنے کو تیار ہے،اور اس لڑکی سنیہ کا نانا موجود ہے وہ بھی منع کرتا ہے اور تمام اہلسنت وجماعت منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نکاح جائز نہیں،مگر شخص مذکور کہتا ہے کہ جائز ہے،اب اس صورت میں یہ لڑکی اپنے نانا کو مل سکتی ہے یا نہیں؟ اور یہ نکاح جائز ہے یا ممنوع شرعًا اس میں گناہ ہوگا یا نہیں؟
الجواب:
یہ نکاح حرام قطعی اور زنائے خالص ہے،عالمگیری میں ہے:
|
لایجوز لہ ان یتزوج امرأۃ مسلمۃ ولامرتدۃ ولا ذمیۃ لاحرۃ ولامملوکۃ [3]۔ |
مرتد کو کسی مسلمان عورت،مرتدہ،ذمیہ،آزاد یا لونڈی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے۔(ت) |
جبکہ وہ لڑکی جوان ہے اور باپ اسے معاذالله زنا کے لئے دینا چاہتاہے تو نانا وغیرہ دیگر اولیاء پر لازم ہے کہ لڑکی کو اس کے قبضہ تصرف سے نکال کر فورًا لڑکی کی رضاسے کسی سنی صحیح العقیدہ کفو کے ساتھ اس کا نکاح کردیں والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع