دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

کہ حقیقۃً یتیمہ وہی ہوتی ہے تو اگر ماں نے غیر کفو بہ معنی مذکور سے نکاح کردیا تو ہوا ہی نہیں او رکفو سے کیا تو چچا وغیرہ جو ولی اقرب ہو اس کی اجازت پر موقوف رہے گا رد کردے گا رد ہوجائے گا جائز کردے گا جائز،والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٤٠٧:         از شہرمحلہ گندہ نالہ مسئولہ عبدالودود لیڈر صاحب                        ٢٨ جمادی الاولٰی ١٣٣٨ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی واید کم بنصرہ فی یتیمۃ بلغت من عمرھا خمسۃ عشرسنین زوجتھا امھا برضاھا باحد من الاقارب ولکن لم یحضروا مجلس النکاح اولیاء الیتیمۃ المذکورۃ کالاعمام وغیرہم وما استشیروا فی ھذا الباب وتولت فی امر النکاح امھا وحدھا لانھا کانت وحدھا کفیلۃ لبنتھا الی الاٰن ھل جاز النکاح ام لا۔

علماء کرام آپ کا کیا ارشاد ہے اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایك پندرہ سالہ لڑکی کا نکاح اس کی والدہ نے لڑکی کی رضامندی سے رشتہ داروں میں کردیا جبکہ لڑکی کے اولیاء چچاوغیرہ مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوئے اور نہ ہی ا س نکاح سے متعلق ان سے مشورہ لیا گیا،صرف والدہ نے ہی نکاح کی تولیت کی کیونکہ لڑکی کی کفیل اس وقت والدہ ہی تھی،کیا یہ نکاح جائز ہوایا نہ؟

الجواب:

ان بلغت قبل ھذ ابعلامۃ کحیض او تمت لھا قبل اذنھا بالنکاح خمس عشرۃ سنۃ کوامل وکان النکاح من کفولیس فی دینہ ولانسبہ ولاخلقہ ولاحرفتہ مایتعیربہ اولیاؤھا عرفا جاز النکاح فان وقع بعد اذنھا او رضیت بہ بعد وقوعہ قبل ردہ تم ولزم ولیس لھاولالاحدمن کان من غیر کفو بالمعنی المذکور فھو باطل رأساوان اذنت و اجازت اوبنفسھا تولت وان کان من کفو ولم تبلغ بعد توقف علی اجازۃ الولی ان اجاز جاز وان ابطل

اگر لڑکی نکاح سے قبل بالغ ہوچکی تھی جس پر حیض یا کوئی اور علامت بلوغ ظاہر ہوچکی تھی،یا وہ نکاح سے قبل پورے پندرہ سال کی ہوچکی تھی تو اس نے نکاح کی اجازت دی اور نکاح بھی کفو میں ہواکہ لڑکے کے دین،نسب،اخلاق اور اس کے کسب پر عرفا لڑکی کے اولیاء کو اعتراض نہ ہو یعنی اس سے عار محسوس نہیں کرتے تو نکاح جائز ہے پس اگر نکاح عورت کے اذن کے بعد واقع ہویا وہ رضامندی ظاہر کر چکی ہو تو یہ نکاح نافذ ولازم ہوگا ہے اب اس کویا اس کے ولی کو نکاح پر اعتراض کا حق نہیں رہا،اگر یہ نکاح غیر کفو میں معنی مذکور میں ہوا تو وہ نکاح بالکل باطل ہے اگرچہ اجازت اور رضامندی ظاہر کرچکی ہو یا اس نے خود اپنا نکاح کیا ہو اگر نکاح کفو میں ہوالیکن ابھی بالغ نہ تھی تو پھر ولی کی اجازت پر موقوف رہا اگر ولی جائزکردے تو جائز اگر باطل کردے

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن