30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ہوکہ اس کے عزیز وقریب مستورات جو اس کے گردوپیش موجود ہیں وہ کہہ دیں کہ ہاں لڑکی کومنظور ہے اور بالعموم اکثرنکاحوں میں اسی طرح کی صورت واقع ہوا کرتی ہے لڑکیاں بوجہ شرم وحجاب خود نہیں بولتی ہیں ایسی صورت میں نکاح جائز ہوا یا نہیں اور اس کا اقرار سکوتی ایجاب وقبول کے قائمقام سمجھا جائے گا یا نہیں؟
(٢)لڑکی بالغ ہے مگر یتیم ہے اس کی ماں نے اس کا نکاح کیا متوفی باپ کے بھائی یعنی چچا تائے موجود نہ تھے آیا ان کی عدم موجودگی نکاح کے جواز پر شرعا کچھ مؤثر ہے۔بینوا تو جروا
الجواب:
(١)اگر ولی اقرب مثلًا باپ وہ نہ ہو تو دادا،وہ نہ ہو تو بھائی،وہ نہ ہو تو بھتیجا،وہ نہ ہو تو چچا،وہ نہ ہو تو چچا کا بیٹا اگرخود جاکر بالغہ دوشیزہ سے اذن لے یا اپنی طرف سے کسی کو اذن لینے کے لئے اس کے پاس بھیجے اور وہ طلب اذن پر سکوت کرے تویہی اذن ہے۔
|
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصماتھا اذنھا ١[1]۔ |
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: باکرہ کی خاموشی ہی اذن ہے۔(ت) |
اور اگر نہ ولی اقرب خود گیا نہ اپنی طر ف سے کسی کو اذن لینے کے لئے بھیجا بلکہ اور شخص بے اس کے بھیجے بطور خود اس سے اذن لینے گیا تو اس کا سکوت اذن نہ ہوگا اگرچہ یہ اذن لینے والاکیسا ہی قریب رشتہ دار ہو جبکہ ولی اقرب نہ ہو مثلا باپ کے ہوتے ہوئے دادا یا حقیقی بھائی اپنی طرف سے اذن لینے جائیں تو ضرور ہوگا کہ عورت خود ہاں کہے اپنی زبان سے اذن دے،پاس بیٹھنے والیوں کایہ ظلم ہوتاہے کہ وہ دھوکا دینے کو ہوں یا ہاں کردیتی ہیں،اس صورت میں نکاح فضولی ہوگا جبکہ کفو کے ساتھ ہو دختر کی اجازت پر موقوف رہے گا،اگر خبر سن کر اس وقت یا بعد کو بے اظہار نفرت جائز کردے جائز ہوجائے گا رد کردے رد ہوجائے گا،اگر اپنے کسی قول یافعل سے صراحۃً دلالۃً اب تك ردنہ کیا ہو توبخو شی رخصت ہوکر جانا اذن ہے اس وقت نکاح نافذ ہوجائے گا،والله تعالٰی اعلم۔
(٢)چچا کے ہوتے ہوئے ماں اگر یتیمہ بالغہ کا نکاح یتیمہ سے اذن لے کر دے یا بعد نکاح وہ دختر اذن قولًا یا فعلًا دے دے تو نکاح صحیح ونافذ ولازم ہے،چچا تھا یا بھائی کسی کو گنجائش اعتراض نہیں جبکہ نکاح کفو میں سے کیا ہو یعنی وہ شخص مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایساکم نہیں جس کے ساتھ اس دختر کا نکاح اس کے ولی کے لئے باعث ننگ وعار وبدنامی ہو،اگر ایسا ہے تو نکاح ہوگا ہی نہیں اور اگر یتیمہ نابالغہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع