30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۴۰۱ تا۴۰۴: ا زبریلی محلہ پھوٹادروازہ مسئولہ فخر الدین صاحب ٣٠ ربیع الاول شریف ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(١)ایك شخص رنڈوا ہے اس نے نکاح ثانی کیا،بعدہ اس شخص کے پہلے بیٹے نے اپنی سوتیلی ماں کی حقیقی بہن سے نکاح کرلیا جو اس کی سوتیلی خالہ ہے یہ جائز ہے یا نہیں؟
(٢)وہ لڑکی عرصہ دو سال سے دوسرے لڑکے کو والدین نے دی ہوئی ہے موافق رواج کے روبرو گواہوں کے والدین نے دی ہے مگر جو رخصتی کے وقت نکاح ثانی ہوتاہے وہ باقی ہے۔
(٣)جبکہ لڑکی کے والدین زندہ ہیں اور لڑکی کنواری ہے تو بغیر رضامندی والدین کے کیا وہ غیر شخصوں کو ولی بناسکتی ہے اپنے نکاح میں؟
(٤)قاضی جس کو پورا علم ہو کہ اس لڑکی کے والدین حقیقی زندہ ہیں اور موجود ہیں تو وہ بلادریافت اس کے والدین ان کی بے علمی میں غیر شخص کو ولی مقرر کرکے لڑکی کا نکاح کرسکتا ہے؟ اگر نہیں تو ایسے قاضی کے واسطے کیا حکم ہے؟
الجواب:
(١)سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے،کچھ حرج نہیں،والله تعالٰی اعلم۔
(٢)دو نکاح کہیں نہیں ہوتے،پہلی منگنی ہوتی ہے وہ نکاح نہیں ہوتا،بات زبان پھیر کر کہنا کچھ مفید نہیں۔دو سال سے دی ہوئی ہے،وہ جلسہ نکاح کرنے کے لئے تھا یا منگنی کا؟ اور کیا لفظ طرفین نے کہے تھے؟ پوری بات بیان کی جائے۔
(٣)لڑکی اگر بالغہ ہے تو اسے خود اپنے نکاح کا اختیار ہے او رنابالغہ ہے تووہ باپ کے ہوتے کسی کو ولی نہیں بناسکتی،والله تعالٰی اعلم۔
(٤)بالغہ کا نکاح اس کی اجازت سے پڑھا جاسکتاہے،اگرچہ والدین کو علم نہ ہو،ہاں ہاں یہ ضرور ہے کہ جس سے یہ نکاح ہو وہ بالغہ کا کفو ہو یعنی مذہب،نسب،چال چلن،پیشے کسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا لڑکی کے باپ کے لئے باعث ننگ وعار ہو ورنہ نکاح نہ ہوگا۔اور اگر نابالغہ ہے تو یہ نکاح باپ کی اجازت پر موقوف رہے گا،قاضی نے بد نیتی نہ کی تو الزام نہیں ورنہ الزام ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٤٠٥ تا ٤٠٦: از شہر محلہ گندہ نالہ مسئولہ عبدالودود لیڈرصاحب ٢٦ جمادی الاولٰی ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(١)بالغ لڑکی اگر نکاح کے وقت بوجہ شرم وحجاب اپنی زبان سے ایجا ب وقبول کے الفاظ ادا نہ کرے صرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع