30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پورا نہ ہونے دیاکہ اسے پھر بگاڑ دیا۔
|
فانہ ان بقی تمام الدقیقۃ ثانیۃ اوثانیتین صدق انھا لم تتم ولکن این الفور۔ |
کیونکہ اگر منٹ میں سے ایك سیکنڈ یا دو سیکنڈ رہتے تو کہا جاسکتاہے کہ منٹ پورا نہ ہو،لیکن یہ فورًا نہیں ہے۔(ت) |
یہ معاملہ حلال وحرام نکاح وزنا کاہے،بات بناکر کچھ حکم لے لینا زنا سے نہ بچا لے گا،پھر اگر تمام شرائط شرعیہ متحقق ہو بھی لیں تو عورت کے کہے سے نکاح فسخ نہیں ہوجاتا بلکہ اس کو دعوی کا اختیار ملتاہے حاکم مجاز کے یہاں دعوی کرے،وہ تحقیق شرعیہ کا گواہان عادل سے ثبوت لے،جب ثبوت ہوجائے تو حاکم نکاح فسخ کرے ویسے نہیں ہوسکتا،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣٩٩:از لاہور سٹی بازار انار کلی مدرسہ تعلیم القرآن معرفت مولوی احمد الدین صاحب مرسلہ جناب مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ٥ ربیع الاول شریف ١٣٣٨ھ
بجنا ب مستطاب حضرت عالم اہلسنت وجماعت مجدد مائۃ حاضرہ زید فضلہم بعدنیاز مندی عقیدت مندانہ درمختار باب الولی میں ہے:
|
وللولی الاعتراض فی غیر الکفو مالم یلد لئلا یضیع الولد [1]۔ |
ولی کو غیر کفومیں اعتراض کا حق ہے جب تك بچہ پیدا نہ ہو(اس کے بعد نہیں)تاکہ بچے کا نسب ضائع نہ ہو،(ت) |
طحطاوی وابوالمکارم حاشیہ شرح وقایۃ وبنایہ علی الہدایہ وحاشیہ شلبی علی الزیلعی وہندیہ میں لکھا کہ بعدولادت بھی بناء بر ظاہر الروایات ولی کو اعتراض ہے فسخ کے لئے،اور امام حسن رحمہ الله تعالٰی علیہ کی روایت مفتی بہا پر ابتداء ہی سے بطلان نکاح کا حکم باقی ہے،اس سے معلوم ہوتاہے کہ ولادت،حق اولیا کی مسقطہ نہیں اور یہی خادم الاقدام کامقصود بھی ہے،اس بارہ میں حضور کو تکلیف تو ہوگی مگر حضور کے توکل اوقات ہی اس کام کے لئے وقف ہیں،ثبوت تفریق واعتراض بعد الولادۃ کے لئے حضور سے جہاں تك توثیق ہوسکے بہتر ہے بشرطیکہ خادم کا اعتقاد خدام عالی شان کے اعتقاد سے مطابق ہو ورنہ خیر،خادم نے ثبوت تفریق کا دعوی کیا ہے وان ولدت(اور اگر بچہ پیدا ہوجائے۔ت)اور دوسری جانب کے مولوی لوگ اس کے عدم پر ہیں،آج ٢٦ اس مہینے انگریزی اورآئندہ دسمبر مہینے کی ٨ لاہور میں جج کے پاس مقرر ہے فقیر کو بھی جاناہوگا،سید زادی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع