30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اختیار نہیں،نہ وہ شوہر کو طلاق دے سکتی ہے نہ ا س کے دئے طلاق پڑسکتی ہے،قرآن عظیم میں فرمایا: بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِؕ [1] (اسی(خاوند)کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ت) حدیث شریف میں ہے:الطلاق لمن اخذ الساق [2](یہ جماع سے کنایہ ہے یعنی طلاق وہی دے سکتاہے جو جماع کامالك ہے۔ت) ا س کی تفصیل معلوم ہونی چاہئے کہ لڑکی کا نکاح چھ مہینے کی عمر میں اس کے باپ نے کیا یادادا نے یا اور کسی نے اور باپ کے سوا جس نے کیا ا س سے قریب تر کوئی ولی تھا یا نہیں،تھا تو کون تھا،اور اس نے قبل نکاح یا بعد نکاح خبر سن کر کیا کہا،لڑکی کو پہلا عارضہ ماہواری کس سال کس مہینے کون تاریخ کے کس منٹ پر آیا،اور اس نکاح سے ناراضی کا اظہار اس نے کس سال کس مہینے کس دن تاریخ کے کس منٹ پر کیا لڑکی کی قوم کیاہے اورلڑکے کی کیا،لڑکا مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں بہتریابرابر یاکتنا کمتر ہے،یہ سب باتیں ایمانًا سچی سچی بتائی جائیں،تو جو صورت واقعہ ہو اس کا جواب دیا جائے گا۔فقط
مسئلہ ٣٩٦: از جاورہ مرسلہ مولوی مصاحب علی صاحب امام مسجد چھیپیان ٢٧ صفر ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نابالغہ کا والد زید قریبا ایك ہزار میل کی مسافت پر تھا،والدہ اور چچا بکرنے رضامندہوکر ہندہ کے والد کی تحریر ی اجازت حاصل کرکے مفتی شہر کو بتاکر خود نکاح خالد کے ساتھ کردیا،نکاح کے ڈھائی مہینے بعد زید اپنے مکان پر آیا،چنانچہ خالد نے اپنے خسر کی دعوت دی اور زید نے جلسہ دعوت میں نکاح کی رضا مندی ظاہر کی،ساڑھے چار ماہ تك رسومات عیدی و دیگر رسومات دامادی خسری خالد کے ساتھ رکھے،اب باہمی رنجش ہونے پرخالد نے زید سے اپنی زوجہ رخصت کرنے کو کہا،زید کہتاہے میں نے خط نہیں لکھا تھا،یعنی نکاح کرنے کی اجازت اپنے بھائی کو نہیں دی تھی،اور نکاح فسخ کرنا چاہتا ہے،تو کیا ا س خط کے انکار سے باوجود یکہ بعد آجانے کے ساڑھے چار ماہ تك رسومات مذکورہ برتے گئے نکاح فسخ ہوسکتاہے ؟ ہندہ کی عمر وقت نکاح بارہ برس کی تھی اور اب ساڑھے بارہ برس ہے۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں انکار خط اسے کچھ مفید نہیں انکار خط سے اتنا ہواکہ اجازت سابقہ ثابت نہ ہوگی اور غایت درجہ نکاح نکاحِ فضولی ٹھہرے گا اگر یہ صورت غیبت منقطعہ کی نہ لی جائے علی مافصلناہ فی فتاوٰنا(جس طرح ہم نے اس کی تفصیل اپنے فتاوی میں کی ہے۔ت)مگر نکاح فضولی بعد اجازت نافذ ولازم ہے اور اجازت لاحقہ مثل وکالت سابقہ کما فی الفتاوی الخیریۃ وغیرہا(جیساکہ فتاوی خیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع