30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
|
لابد حینئذ لصحہ العقد من رضاہ صریحا وعلیہ فلو سکت قبلہ ثم رضی بعدہ لایفید فلیتا مل ١[1] اھ وکتبت علیہ جزم بہ فی الخیریۃ تبعاللبحر والوجہ فی ماسنذکرہ [2] الخ۔ |
اس لئے ا س عقد کی صحت کے لئے ولی کا صراحۃً اظہار رضامندی کرنا ضروری ہے او راسی بناپر اگر پہلے وہ خاموش رہااور بعد میں راضی ہوا تو نکاح کے بعد کی رضا معتبر نہیں ہے،غور چاہئے اھ، اس پر میں نے حاشیہ لکھا،خیریہ میں اس پر جزم بحر کی اتباع میں کیا ہے او ر وجہ وہی ہے جو ہم ذکرکریں گے الخ۔(ت) |
یہاں رضا ئے ولی غیر کفو جا ن کر نہ تھی بلکہ کفو سمجھ کر لہذا اصلا معتبر نہیں۔شرط انعقاد نہ پائی گئی اور نکاح بالکل محض ہوا،زینب پر فرض ہے کہ اس سے فورا جدا ہوجائے،اگرچہ خلوت ہوچکی ہو اور زید وہندہ پر حرام ہے کہ اسے عمرو کے یہاں بھیجیں کہ وہ نرا اجنبی بلکہ اس سے بدتر ہے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ(ا لله تعالی ٰسے معافی اور عافیت کا سوال ہے۔ت) والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣٩٥: از کلکتہ بھوانی پور ڈاکخانہ بھوانی پور رسہ روڈ نمبر ١٠٩ مرسلہ شیخ حاجی نادر علی صاحب بقر قصاب ١٥ صفر ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کی شادی چھ مہینے کی عمر میں ہوئی اور لڑکے کی عمر اس وقت پانچ برس کی تھی تب دونوں کی شادی ہوگئی اور اب لڑکی کی عمر اس وقت چودہ برس کی ہے اور لڑکا یا لڑکے کاکوئی وارث ابھی تك کسی طرح لڑکی کی خبر نہیں لینے گئے اور لڑکی خدا کے فضل سے تین قسم کے علم سے بھی واقف اچھی طرح سے ہے اور لڑکا بالکل جاہل ہے کچھ علم سے تعلق نہیں،ا ورنہ لڑکے کی طرف سے کوئی شخص لڑکی کا پرسان حال ہوا انہی سب وجوہات سے اب لڑکی کہتی ہے کہ ہم اول شوہر کو طلاق دے کر نکاح ثانی کریں گے،لڑکی اول شوہر کو طلاق دے کر نکاح ثانی کرسکتی ہے یا نہیں؟ اور طلاق ا س پر واجب ہوگی یا نہیں؟ اس مسئلے کو حضور ارشاد فرمائیں تاکہ لڑکی اگر نکاح ثانی کرے اور لڑکے کی طرف سے کوئی کارروائی مقدمہ وغیرہ کا کرے تو ہم کو ا س مسئلہ کو پیش کرنا ہوگا خوب کوشش کرکے بلکہ جوفرماویں خرچ وغیرہ کے لئے تو غلام خدمت کے لئے حاضر ہے۔
الجواب:
یہاں فتوی پرکوئی خرچ نہیں لیا جاتا نہ اس کو اپنے حق میں روا رکھا جاتاہے،طلاق دینا عورت کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع