30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(الله تعالٰی کا ارشاد ہے: اورجس کا بچہ ہے اس پر عورتوں کا کھانا ہے۔ت) اور بالفرض کفاءت نہ بھی ہو تو باپ ایك بارغیر کفو سے بھی نکاح کرسکتاہے لہذا صور ت مستفسرہ میں وہ نکاح صحیح ولازم ہوگیا جس کے فسخ کا کسی کوبھی اختیار نہیں،والله تعالٰی اعلم،
مسئلہ ٣٩٣: از ریاست رامپور محلہ زینہ عنایت خاں مدرسہ عزیزیہ مرسلہ محمد سفیر الرحمان صاحب بنگالی ٣ ذیقعد ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ ایك لڑکی بالغہ او رسن بھی چودہ برس کاہے،اس کے باپ نے جس لڑکے کے ساتھ اس کی شادی مقرر کردی ہے وہ ہونے والا شوہر نہ کہ باپ کے ذکر کرنے سے بلکہ اور کسی طریقہ سے لڑکی کو معلوم ہے کہ میری شادی اس شخص کے ساتھ مقرر کرادی ہے اور وہ دوسرے شہر میں رہتا ہے،جب باپ عقد پڑھانے کو لڑکی کے مکان کو چلا،نہ اس وقت لڑکی سے اجازت لی اورنہ کچھ کہا بلکہ ویسے ہی وہاں جاکر مجلس میں کہہ دیا میں نے اپنی لڑکی تمھارے نکاح میں دے دی،یہ نکاح نافذ ہوا یا نہ ؟ بینوا تو جروا
الجواب:
اگر بالغہ نے پہلے اجازت نہ دی تھی نکاح اس کی اجازت پر موقوف رہا،جائز کردے گی جائز ہوجائیگا جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو،رد کردے گی باطل ہوجائے گا اگرچہ کوئی مانع شرعی نہ ہو،درمختارمیں ہے:
|
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ ١[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
بالغہ باکرہ لڑکی کو نکاح پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اب اس پر کسی کی کوئی ولایت نہ رہی،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣٩٤: ١٣ ذی قعدہ ١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں دین اس مسئلہ میں کہ زید کا دادا جمال الدین شاہ مرحوم ایك درویش شخص تھا چنانچہ اس نے اپنی عمر زہد وعزلت میں ایك جگہ میں بسر کردی اور زید کا باپ فرید الدین مرحوم ایك متورع اور عالم شخص تھا اور زید خود بھی بحمدہٖ تعالٰی ایك متقی اور عالم اور صوفی اہل وعیال کے تین چار برس کے نفقے کا مالك شخص ہے اور مکان مملوك رکھتا ہے،اور زید کی بیوی ہندہ ایك پا بند صوم وصلوٰۃ اور تالیہ قرآن پاك اور قاریہ اور اد و وظائف عورت ہے،اور زید کی لڑکی زینب بھی ایك صوم وصلوٰۃ کی شائق اور اوراد ووظائف کی جانب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع