30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دختر راحت حسین کے گیاتھا وہاں جاکر مجھ کو گواہ بنایا گیا میں نے اندر جاکر اس کی والدہ سے دریافت کیا اس نے اقرار کیا اور اجازت نکاح کی دی پھر میں نے لڑکی سے اذن طلب کیا وہ پردہ میں تھی اندر سے اُوں کی آواز آئی پھر نکاح پڑھوادیا گیا فرحت حسین بوقت نکاح موجود نہ تھے،دستخط احمد حسین،وکیل صاحب مسمی قاضی اولاد حسین علیل تھے اور اس کے بعد زیادہ علیل ہوگئے اور انتقال ہوگیا،کوئی بیان تحریری حاصل نہ ہوسکا،قاضی صاحب نے جنھوں نے کہ نکاح پڑھایا ہے مکان پر یا اس موقع پر قسم ذکور سے کسی کو نہ پاکر قطب الحسن سے کہا گیا کہ ایسانکاح پڑھوا کر مجھ کو کسی مقدمہ میں ماخوذ تو نہ کراؤ گے جوکوئی مرد مکان پرموجود نہیں ہے جس کا جواب قطب الحسن نے یہ دیاکہ کسی مرد کی کچھ ضرورت نہیں ہے لڑکی خود بالغ ہے قاضی صاحب نے لڑکی سے ایجاب قبول کرادیا،اندر کا کچھ حال اس وقت قاضی صاحب کو گواہان او ر وکیل صاحب کے بیانات سے طرح طرح کے شکوك عدم جواز نکاح کے پیدا ہوئے جس کی وجہ سے ضرورت فتوی لینے کی ہوئی،معروضہ احقر،اب وہ لوگ طرح طرح کے دباؤ رخصت کے ڈالتے ہیں اورلڑکی بالکل قطعی انکار کرتی ہے حتی کہ جان دینے پر آمادہ مگر وہاں رخصت کئے جانے کو منکر ہے،معاملہ مذکور بالا کو غور فرماکر حکم شرع شریف سے سرفراز فرمائیں۔
الجواب:
الله واحد قہار عالم الغیب والشہادہ ہے۔یہ معاملہ حلال حرام او ر وہ بھی خاص شرمگاہ کاہے جس کی حرمت سخت اشد ہے،اگر واقع میں ہاجرہ بالغہ نے اذن دے دیاتھا اگرچہ دباؤ سے اگرچہ جبرًا تو نکاح صحیح ہوگیا اور اب اسے انکار کا کچھ اختیار نہیں اگر نہ مانے گی اور دوسری جگہ نکاح کرے گی تو زنا ہوگا زنا زنا،اور اگر واقع میں اس نے انکار کیا تھا اور اسے اذن بناکر ہوگیا ہوگیا اڑایا تو حرام حرام سخت حرام ہے کہ اسے عزیزالحسن کی زوجہ سمجھا جائے پہلی صورت میں ہاجرہ اور دوسری میں عزیزالحسن وغیرہ اس کے ساعی مستحق لعنت الہٰی و عذاب شدید ہوں گے باقی جوشہادتیں مذکورہوئیں ثبوت اذن کے لئے محض ناکافی ہیں ان کی بناپر ہاجرہ کہ اذن سے منکر ہے مجبور نہیں کی جاسکتی،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣٨٢: ا زپیلی بھیت محلہ شیخ چاند متصل سرائے پختہ مرسلہ حافظ ولایت احمد صاحب ٨ شعبان ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا نکاح چچا حقیقی کی ولایت سے جو اس کے علم میں نابالغہ تھی بعدم موجودگی ہندہ ومادر ہندہ زید نابالغ کے ساتھ بولایت دادا حقیقی زید عرصہ پانچ سال کا گزرا ہواتھا،دوسال سے زید بالغ ہے اب رخصت کرانا چاہتاہے تو مادر ہندہ سے معلوم ہواکہ ہندہ وقت نکاح کے بالغہ تھی ماں ہندہ کی رخصت نہیں کرتی ہے اور کہتی ہے کہ نکاح صحیح نہیں اور مادر ہندہ کے بیان کی تصدیق کرلی گئی کہ صحیح ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع