30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
فی الواقع بھائی اگرچہ سوتیلا ہو اس کے ہوتے ماں کو ولایت نہیں،جو نکاح ماں نے کیا او رکسی جوان بھائی کاا ذن نہ تھا،نہ بعد نکاح کسی جوان بھائی نے جائز کیا اسے جو جوان بھائی فسخ کرے فسخ ہوجائے گا،اور عاق کردینا شرعا کوئی چیز نہیں،نہ اس سے ولایت زائل ہو،درمختارمیں ہے:
|
لوزوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگر ولی ابعد ولی اقرب کی موجودگی میں نکاح کردے تویہ نکاح اقرب کی اجازت پر موقوف ہوگا۔والله تعالٰی اعلم۔ (ت) |
مسئلہ ٣٨١: از بسولی ضلع بدایوں مرسلہ محمد ایوب حسن صاحب سلمہ،ولد قاضی محمد یوسف صاحب ٢١ رجب ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہاجرہ خاتون عرف بنو دختر راحت حسین مرحوم کا جس کی عمر اس وقت پندرہ برس چھ ماہ ہے اس کی ماں بساز اپنے بھائی اولاد حسین اور بھانجے قطب الحسن(قطب الحسن کو ہاجرہ کی بڑی بہن بیاہی ہے)جبکہ مکان پرکوئی شخص از ذکور موجود نہ تھا اپنی بہن کے لڑکے عزیز الحسن سے جوقطب الحسن مذکور سے چھوٹے ہیں بوکالت اپنے بھائی حقیقی اولاد حسین مذکور وبگواہی بندہ حسن جو قطب الحسن وعزیزالحسن مذکورکے عم زاد ہیں وبگواہی احمد حسین جو قطب الحسن کے قریبی رشتہ دار ہیں نکاح پڑھوادیا،بیان ہاجرہ خاتون جو کہ بموجودگی ممتاز حسین وفرحت حسین وصولت حسین کلام پاك پر ہاتھ رکھ کر بیان کیا میرے سامنے قبل نکاح کے واقع کے چند مرتبہ میری بہن زوجہ قطب الحسن نے عزیز الحسن سے میرا نکاح کئے جانے کا تذکرہ کیا مگر میں نے قطعی انکار کیا اور میرے اس انکار کی خبر قطب الحسن وعزیز الحسن اور ان کی والدہ اورمیری ماں اور بہنوئی کو کماحقہ ہوچکی تھی اب بوقت نکاح جب مجھ سے اذن طلب کیا گیا میں بوجہ لحاظ شرم بآواز بلند اس مجمع میں انکار نہ کرسکی مگر انکاری سرہلایا اور اُوں ہونھ جو انکار تھا کیا تھا میری آواز نکلتے ہی میری بہنوں اور خالہ وماں نے غل وشور مچادیا کہ ہوگیا ہوگیا،میں عزیز الحسن کے ساتھ نکاح کئے جانے کہ نہ قبل اس واقعہ کے نہ اس وقت اورنہ اب رضامند ہوں مجھ پر خدا اور اس کے رسول کی پھٹکارہو جو اس وقت ایك لفظ بھی غلط کہتی ہوں،بیان گواہ بندہ احسن جو تحریر کرالیاگیاہے،بتاریخ ٢٩ دسمبر ١٩١٨ء بوقت ٥ بجے شام قطب الحسن مجھ کو قاضی ٹولہ بغرض نکاح عزیز الحسن کے لئے گئے وہاں پر جاکر مجھ کو معلوم ہو اکہ تم گواہ ہو کہ مسماۃ بنو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع