30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بطل خیار البکر بالسکوت مختارۃ عالمۃ بالنکاح ولایمتدالٰی اٰخر المجلس [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
باکرہ بالغہ کو جب علم ہوجائے تو خاموشی پر اس کا اختیار فسخ ختم ہوجاتاہے او رخاموشی کے بعد مجلس کے اختتام تك باقی نہ رہے گا۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣٧٨: از موضع سموال ڈاکخانہ سیگتر ریاست جموں ضلع میر پور ملك پنجاب براستہ جہلم مرسلہ حافظ مطیع الله صاحب ١٨ ربیع الآخر ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صو رت میں مثلا زید کی لڑکی نابالغہ کا بعد وفات زید لڑکی کی والدہ نے کسی جگہ ناتا یعنی ساك کردیا اور ان نے لڑکی مذکورہ کو کسی قدر زیور اور کپڑا دیا،اپنے زعم میں انھوں نے لڑکی اپنی منکوحہ سمجھ لی،بعد گزرنے دوتین سال کے والدہ لڑکی کے پاس گئے تاکہ شادی کردیوے،اس نے کہا مجھے فرصت نہیں،پھر چلے گئے،دوبارہ جس کے ذریعہ سے منگنی کی تھی بھیج کر سوال کیا،پھر والدہ لڑکی نے انکار کردیا،منگنی والوں نے کہا زیور وغیرہ واپس کردو ہم اس سے رہے،غرض وہ اپنے زیورات وغیرہ لے کر واپس چلے آئے اور دعوی ناتا چھوڑ دیا،اب لڑکی بالغ ہے اور اس کی والدہ مرگئی ہے دوبارہ ناتے والے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم نے ناتا نہیں چھوڑا اور نہ ہم نے زیورلیا وکیل نے لیا ہوگا،آیا بروقت منگنی نابالغ کا اس کی والدہ یا چچایا برادر نے کردیا اس کو بموجب شریعت اختیار فسخ ہے بحکم ولھما الخیار فی غیر الاب والجد(نابالغ اور بالغہ کو غیر باپ دادا کے دئے ہوئے نکاح میں اختیار ہوتا ہے،ت)لیکن بروقت بلوغ قاضی کے نزدیك بیان دیوے اور قاضی حکم فسخ کرے،چونکہ اس ولایت میں کوئی قاضی نہیں تو کیا اس ملك میں اعلم علماء فسخ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
الجواب:
محض منگنی کوئی چیزنہیں اور ان کا منکوحہ سمجھ لینا باطل ہے جبکہ ایجاب وقبول نہ ہوا ہو،اس صورت میں فسخ کی کیا حاجت کہ نکاح ہی نہ تھا جسے فسخ کیا جائے،ہاں اگر ایجاب وقبول ہوگیا تو بے شك صورت مذکورہ میں نابالغہ کو خیار فسخ ہے،اگر بالغہ ہوتے ہی فورًا ا سی مجلس میں انکار واعتراض کرے تو دعوی فسخ کرسکتی ہے،اعلم وافقہ اہل بلد بحضور زوج فسخ کرے او راس کی تنفیذ بذریعہ کچہری کرالے،اور اگر مجلس بلوغ میں سکوت کیا تو اب دعوی فسخ نہیں کرسکتی نکاح لازم ہوگیا جبکہ کفو سے ہوا ہو یعنی زوج زوجہ سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے اس کا نکاح اولیاء کے لئے عرفًا باعث ننگ وعار ہو کہ اس صور ت میں غیر اب وجد کاکیا ہوا نکاح باطل محض ہوتاہے،جب سرے سے ہواہی نہیں فسخ کی کیا حاجت،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع