30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماں باپ نے قضا کی اور ہندہ کو اس کی حقیقی نانی نے پرورش کیا جبکہ ہندہ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو اس کی حقیقی نانی نے ہندہ کا عقد اپنے دوسرے نواسے کے ساتھ کردیا،گو ہندہ کے بھائی حقیقی تھے مگر اس موقع پر موجود نہ تھے جبکہ اس کا عقد اس کی نانی نے کیا تھا،لہذا شادی ہونے کے بعد سے پانچ چھ برس کامل تك ہندہ کو نہ ا س کے شوہر نے روٹی کپڑا دیا اور نہ اس کے ساس سسر نے،بدستور سابق ہندہ اپنی نانی کے پاس رہی اس نے اس کو روٹی کپڑا دیا جبکہ ہندہ کی عمر چودہ سال کچھ ماہ کی ہوئی اور اس کو پہلا ایام ہوا،اس وقت ہندہ مع اپنی نانی کے اپنے محلہ کے ایك گھرمیں آئی اور اس نے دومرد او ر تین عورتوں کے روبرو کہا کہ میری شادی میری نانی نے جس کے ساتھ کی تھی اس سے میں رضامند نہیں ہوں اور میں اس کے ساتھ اپنی عمر کسی طرح بسر نہیں کرسکتی ایسی حالت میں وہ نکاح ہندہ کا رہا یا ٹوٹ گیا؟
(۱)اس کے پانچ ماہ بعد ہندہ کادوسرا نکاح ہندہ کی رضامندی سے دوسرے شخص کے ساتھ کردیا گیا جبکہ وہ بالغ ہوچکی تھی اس صورت میں یہ نکاح جائزسمجھا جائے گا یا نہیں؟ اگر ہندہ کا پہلا شوہر عدالتی لڑائی فساد سے اپنی عورت کو لینا چاہے تو ان تمام امورات کو مدنظر رکھ کر ہندہ کو لے سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب:
جس سے ہندہ کا پہلا نکاح ہوا اگروہ ہندہ سے مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایسا کم تھا کہ اس کے ساتھ ہندہ کا نکاح ہونا برادران ہندہ کے لئے باعث ننگ وعاروبدنامی ہو تو وہ نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔
|
یفتی بعدم الصحۃ فی غیر الکفو لفساد الزمان [1] در مختار وغیرہ۔ |
فتوی یہ ہے کہ غیر کفو میں زمانہ کے فساد کی بناپر اصلا نکاح نہ ہوگا درمختار وغیرہ(ت) |
اور اگرایسا نہ تھا وہ نکاح صحیح ومنعقد ہوگیا لصدورہ من فضولی ولہ مجیز(فضولی سے صادر اور اس کو جائز کرنے والا موجود ہونے کی وجہ سے۔ت)ہندہ اگر بالغ ہوتے ہی ناراضی ظاہر کرتی اس نکاح کو فسخ کراسکتی اب کہ دیرلگائی وہاں سے دوسری جگہ جاکر وہ الفاظ کہے اب نکاح لازم ہوگیا بے موت یا طلاق شوہر اول اس سے جدا نہیں ہوسکتی،
(٢)دوسرا نکاح جو کیا باطل محض ہے اس پر فرض ہے کہ فورًا اس سے جدا ہوجائے، درمختار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع