30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونے والی ہے،اس لڑکی کی ایك سوتیلی ماں ہے جس نے اس کی پرورش کی اور شادی بھی کرتی ہے،زید کے حقیقی بھائی سے اس نے اس کی شادی کے متعلق مدد چاہی کہ تمام اہل برادری کے سامنے اس نے انکار کیا کہ میں نہ اس شادی میں شریك ہوں گا نہ مجھ سے کسی قسم کا واسطہ ہے جہاں چاہیں شادی کریں مجھ سے کوئی واسطہ نہیں،اس لئے سخت پریشانی ہے کہ اس کی بیوہ سوتیلی ماں نے کل انتظام شادی کا کرلیا ہے خدانخواستہ اگر وہ عین وقت مخل ہو تواس کا سخت نقصان ہوگا گو امید نہیں ہے کہ وہ ایسا کرے کیونکہ اس نے سب اہل برادری کے سامنے اپنی بے تعلقی بیان کیا ہے مگر احتیاطًا ضرورت ہے کہ علماء کی بھی سند موجود ہو،لڑکی کاولی اس کی بڑی بہن کا شوہر ہوسکتاہے،اس کی بڑی بہن کا انتقال ہوچکا ہے او ردوسری بہن مع شوہر موجود ہے اور سوتیلی ماں کے چار لڑکے اس کے باپ کے نطفہ سے موجود ہیں جن میں سے دو کی عمر ١٦،١٤ سال کی ہے اور ایك سوتیلی ماں ہے اور تمام اہل برادری ہیں ان میں اس کا ولی کون ہوسکتاہے؟ بینوا تو جروا
الجواب:
اس صورت میں اس نابالغہ کے نکاح کا ولی نہ اس کا حقیقی چچاہوسکتاہے نہ بہن نہ بہنوئی نہ ماں بلکہ لڑکی کا سوتیلا بھائی کہ سولہ سال کاہے اس کے نکاح کا ولی ہے،اور دوسرا کہ چودہ سال کاہے اگر وہ بالغ ہے تووہ بھی ہے،درمختار وغیرہ میں ہے:
|
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث اوالحجب [1]۔ |
نکاح کا ولی عصبہ بنفسہٖ وراثت اورمانع ہونے کی ترتیب پر ہوتے ہیں۔(ت) |
لہذا لڑکی کا نکاح کفو میں مہر مثل یا زائد پر جو ان سوتیلے بھائی کی اجازت سے ہونا چاہئے،اگر ماں حقیقی بھی ہوتی تو اس کا کیا ہوا نکاح بھی اس بھائی کی اجازت پر موقوف رہتا،اور جبکہ اس کا بھائی کی اجازت سے ہو یابعد نکاح قبل رد یہ اسے جائز کردے اور نکاح میں مہر مثل سے کمی فاحش نہ کی گئی ہو او رجس سے نکاح ہوا وہ کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشے میں ایساکم نہ ہو کہ اس سے نکاح ان بھائیوں کے لئے وجہ عار وبدنامی ہو تو وہ نکاح صحیح ہوجائے گا اور چچا اس میں کسی طرح خلل انداز نہیں ہوسکتا،ہاں لڑکی کو اختیار ہوگا کہ بالغہ ہوتے ہی اگر فورًا ا س نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے تو دعوی کرکے فسخ کراسکے گی،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣٧٦،٣٧٧: از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان مرسلہ سید محمد تقی صاحب قادری ٢٦ صفر ١٣٣٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی عمر چارپانچ سال کی تھی کہ اس کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع