30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
او زوج ابنہ الصغیر اَمَۃً اوامرأۃ لیست بکفولہ جاز فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی وقال صاحباہ رحمہما اﷲ تعالٰی لایجوز ان فاحش واجمعوا علی انہ لایجوز ذلك من غیرالاب والجد ولامن القاضی [1]۔ |
عورت سے کردے تو امام ابو حنیفہ رحمہ الله تعالٰی کے قول کے مطابق یہ نکاح جائزہونگے،اور صاحبین رحمہما الله تعالٰی کے قول پر جائز ہوگا،جبکہ باپ داد ا کے غیر حتی کہ قاضی کے دئے ہوئے یہ نکاح ناجائز ہونے پر اجماع ہے۔ (ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
لو زوج ولدہ من غیر کفو بان زوج ابنہ امۃً او ابنتہ عبدا اوزوج بغبن فاحش بان زوج البنت ونقص من مھرھا اوزوج ابنہ وزاد علی مھرا مراتہ جاز عند ابی حنیفۃ تبیین وعندھما لاتجوز الزیادۃ والحط الابما یتغابن الناس فیہ قال بعضھم فاما اصل النکاح فصحیح والاصح ان النکاح باطل عندھما کافی والخلاف فیما اذالم یعرف سوء الاختیار الاب امااذا عرف فالنکاح باطل اجماعا وکذا اذا کان سکران السراج الوھاج٢[2] اھ ملخصا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اگر اپنے بیٹے کا نکاح غیر کفو مثلا لونڈی سے یا نابالغہ بیٹی کا نکاح غلا م سے کردیا،یاا س کا نکاح انتہائی کم مہرپر کردیا،یا بیٹے کا نکاح کرکے اس کی بیوی کا مہر زائد کردیا،تو امام ابو حنیفہ رحمہ الله تعالٰی کے قول پر جائزہوگا،تبیین،اور صاحبین رحمہما الله تعالٰی کے قول پر اتنی زیادتی یا کمی پر نکاح کیا جو مروج کے مطابق نہ ہو تو یہ جائز نہیں ہے،بعض کے نزدیك صاحبین کے قول پر اصل نکاح صحیح ہوجاتا ہے،کافی،یہ امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف اس صورت میں ہے جبکہ باپ سوء اختیار سے معروف نہ ہو اور اس میں مشہور ہو تو بالاجماع باطل ہے،اور یو ں ہی اگر وہ نشہ میں ہو تو بھی باطل ہے،سراج الوہاج،اھ ملتقطا،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣٧٥: از مندیا ہو ضلع جونپور محلہ قضیانہ مرسلہ حافظ کریم بخش صاحب ٢٨ جمادی الآخرہ ١٣٢٦ھ
زید نے قضا کی اس کاایك حقیقی بھائی جو مدت دراز سے علیحدہ رہتاہے اور مرحوم سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتا تھا زندہ ہے،زید کی ایك لڑکی جواب قریب بلوغ ہے اور اس کی شادی برادری میں دس ۱۰ رجب المرجب کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع