دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

التحریر وھذا غایۃ ماوصل الیہ فھمنا القاصر،واﷲ تعالٰی اعلم۔

اور جہاں ہمارا قاصر فہم پہنچاوہ یہی ہے،والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

فقیر نے اس پر تعلیقات میں ان کی ابحاث سے جواب دئے اور تعلیقات کتاب الطلاق میں اولا وجوہ جواز لکھ کر انھیں رد کیااور عدم جواز کی ترجیح بیان کی اور آخر میں یہی لکھا کہ:

بالجملۃ محل اشتباہ ولابد من تحریر فوق ذٰلک،و اﷲ تعالٰی اعلم۔

غرض یہ کہ محل اشتباہ ہے تو اس کی صفائی کے لئے اس سے زائد تحقیق کی ضرورت ہے،والله تعالٰی اعلم۔(ت)

ایسی شدید مشتبہ حالت میں بھی احتیاط یہی ہے کہ بلاطلاق ومرور عدت نکاح ثانی کی جرأت نہ کی جائے،والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٣٧٤:        ا زسہسرام ضلع گیا مرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب                  ٣ جمادی الآخر ١٣٣٦ھ

نابالغ کے نکاح میں اس کے ولی سے ایجاب کے کرانے کی نوبت پہنچے گی تب تعین مہر بحیثیت ولی کے ہوگی پس بعد بلوغ اقبا ل سے وہ نابالغ مہر کے ناراض ہو اور نکاح کرے تو کیا حکم ہوگا،بینوا تو جروا

الجواب:

وہ ولی جس نے نابالغ کا نکاح کیا اس کا باپ نہ ہونے کی حالت میں دادا ہے ایسا جو اس سے پہلے کوئی نکاح اپنی ولایت سے مہر میں ایسے فرق کثیر پر یا غیر کفو سے نہ کرچکاہو نہ اس نکاح کے وقت نشہ میں ہو جب تو نکاح صحیح اور مہرلازم ہوگیا،نابالغ کو کسی وقت کوئی حق اعتراض نہیں،اور اگر نکاح کرنے والا اَب وجَد کے سوا اور کوئی ولی ہے یا اب وجد ہیں اور اس وقت نشہ میں تھے یا اس سے پہلے بھی کوئی نکاح اپنی ولایت سے ایسا کرچکے تھے اورمہر مثل سے فرق کثیر ہے مثلا پسر کا نکاح ہے اور عورت کا مہر مثل دس ہزار تھا انھوں نے پندرہ ہزاربندھوایا یا دختر کا نکاح ہے او رمہر مثل دس ہزار تھا انھوں نے پانچ ہزار بندھوایا تو اس صورت میں نکاح سرے سے ہوگا ہی نہیں فسخ کی کیا حاجت ہے،اور اگر فرق فاحش نہیں مثلا پسرکے نکاح میں دس ہزار کا گیارہ ہزار یا دختر کے نکاح میں دس ہزار کا نوہزار،تو نکاح ہوگیا،پھر اگر وہ ولی جس نے نکاح کیا غیر اب وجد ہے تو صغیر وصغیرہ کو خیار بلوغ ملے گا جو غیر اب وجد کے نکاح کرنے میں مطلقًا ملتا ہے اگرچہ مہر مثل میں کوئی کمی بیشی نہ ہوئی ہو،صغیرہ اگر بکر ہے تو بالغہ ہوتے ہی فورا یا اس کے بعد علم نکاح ہو تو علم پاتے ہی معًا اگر اس نکاح سے اپنی ناراضی ظاہر کرے گی تو دعوی کرکے قاضی سے فسخ کراسکے گی اور صغیرہ اگر ثیب ہے یاصغیرہ کا نکاح ہے تو انھیں بعد بلوغ مطلقًا اختیار اعتراض رہے گا جب تك صراحۃً


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن