30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان المراد بالابعد القاضی ولاقاضی ھٰھنا فقد تدارکنا بماذکرنا من جمیع النظرین،واﷲ المستعان واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
سے بہت سی نصوص نقل کیں کہ ابعد سے مراد قاضی ہے اور یہاں قاضی نہیں ہے اس لئے ہم نے نقصان کا تدارك کرتے ہوئے مذکور اولیاء کو ذکر کیا ہے تاکہ دونوں مصلحتیں جمع ہوجائیں،اور الله تعالٰی سے ہی امداد طلب کی جاتی ہے،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣٧٣: از موضع پکریا ڈاك خانہ بانکی ضلع ڈالٹن گنج مرسلہ سید منہاج الحق صاحب احراری ٨ جمادی الاولٰی ١٣٣٦ھ
ہندہ کے شوہر نے قضاء کیا اور عمرو سے بیوہ کا ناجائز تعلق ہوا،بعد خبر پانے کے بکر نے جو ہندہ کا چچا ہے بساسرزنش گھر میں بند رکھا اور کچھ دنوں باہر نکلنے نہ دیا اور بزور اپنے لڑکے زید سے جس کی بی بی موجود ہے بے رضامندی جو بخوف ہلاکت ہندہ نے قبول کیانکاح کردیا،وکیل نکاح واقعہ معلومہ نے بمقابلہ شاہدین اجہل جو چچازاد بھائی بیوہ کے ہیں برضامندی اجازت عقد نکاح چاہی،بخوف جان ہندہ نے قبول کیااو راذن دیا،بعد دوچار ماہ کے موقع وقت پاکر عمرو کے یہاں چلی آئی اور ہنوز اس کے مکان میں موجود ہے۔ہندہ سے بمقابلہ چند گواہاں پوچھا گیا حلفًا بیان کیا کہ ہم کو ہرگز ہر گز منظور نہ تھا جبر سے بکر وغیرہ کے جو دھمکی ہلاکت دیا تھا اقبال کیا بعدہ ہم دونوں کو یعنی ناکحین کو لوگوں نے ایك مکان میں بند کردیا،چنانچہ خلوت صحیحہ بھی اسی قاعدہ مسطورہ صدر سے ہوا پس صورت مستفسرہ میں امید وار جواب باصواب کاہوں،ایسا نکاح جائز ہوسکتا ہے یا نہیں کیونکہ ہندہ نے اقرار زبانی کیا دِلی حالت کسی کو معلوم نہیں،صورت مذکورہ بالا میں طلاق کی بھی ضرورت ہوگی یا نہیں؟ حسب بیان وخواہش ہندہ بغیرطلاق عمرو سے نکاح یا بعد طلاق وعدت؟ بینوا تو جروا
الجواب:
اگر واقعی اکراہ ومجبوری کی صورت نہ تھی صرف دھمکی تھی اور اسے بھی صحیح طورپر اندیشہ جان نہ تھا جب تو وہ اذن صحیح ہوگیا اور اگر اس وقت واقعی اکراہ تھا اور شوہر کے پاس جانا بلااکراہ ہوا تو اگر پہلے نہ بھی تھی اب ہوگئی،ان دونوں صورتوں میں نکاح ہوگیا اور بغیر موت یا طلاق شوہر وانقضائے عدت دوسرے سے نکاح نہیں ہوسکتا،او ر جانا بھی باکراہ تھا اور جیسا کہ ہندہ کا بیان ہے خلوت بھی باکراہ ہوئی،تو یہ مسئلہ شدید الاشکال ہے کتابوں میں اس کا جزئیہ کہیں نہیں،علامہ خیرالدین رملی کی نظر حاشیہ بحرالرائق میں صحت توکیل کی طرف گئی اور حاشیہ منح الغفار میں عدم جواز کی طرف علامہ شامی نے کتاب الاکراہ میں اول کی طرف میل فرمایا اور آخر میں بھی لکھاکہ:
|
الحاصل ان المحل محتاج الی زیادۃ |
حاصل یہ کہ یہ مقام زیادہ تحریر وتحقیق کا محتاج ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع