30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خانیہ میں ہے:
|
لایکون الفسخ لعدم الکفاءۃ الاعند القاضی لانہ مجتھد فیہ [1] اھ۔ |
کفونہ ہونے کی بناپر فسخ صرف قاضی کے ہاں ہی ہوسکتا ہے کیونکہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے۔اھ(ت)والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٣٦٩: مسئولہ خان بہادر مولوی محمد خلیل الله خان ڈاك خانہ گولہ ضلع کھیری
مسماۃ ہندہ نے انتقال کیااور اولاد دختری سے دو لڑکیاں چھوڑیں وقت انتقال میں مسماۃ مذکورہ کی لڑکیوں نے اپنے حقیقی نانا کی پرورش ہرقسم کی اس وقت تك پائی،دختران کی عمرسن بلوغت کو پہنچی ہے،والد لڑکیوں کا اپنے وطن میں موجود ہے او رکسی قسم کی امداد پرورش دختران مذکور نہیں کرتا،والد والدہ دختران مذکور کا شادی کا انتظام کرتاہے تو والد منع آتاہے،والد شریك شادی دختران مذکور بوجہ اس کے کہ صرفہ شادی سے علیحدہ رہے،نہیں ہوتا ہے،توایسی حالت میں حقیقی نانا بحیثیت ولی کے نکاح کرسکتا ہے اگر نکاح دختران مذکور کا حقیقی نانا ایسی حالت مذکور میں کردے تو کیا مناسب ہے؟ بینوا تو جروا
الجواب:
لڑکیاں جبکہ بالغ ہوگئیں ان پر ولایت جبریہ کسی کی نہ رہی،ان کی رضاسے جو نکاح ان کا ہو صرف دو حالت میں ولی یعنی ان کے باپ کو ان پر اعتراض کا حق ہوگا،اول یہ کہ جس سے نکاح کیا جائے وہ اس دختر کا کفو یعنی نسب یا مذہب یا چال چلن یا پیشہ وغیرہ کسی بات میں اس سے اتنا کم ہو کہ اس سے نکاح ہونا پدر دختر کے لئے باعث ننگ وعار ہو،اس صورت میں توجب تك باپ پیش از نکاح اس شخص کوغیر کفو جان کر صراحۃً اجازت نہ دے نکاح ہوگا ہی نہیں محض باطل ہوگا۔دوم یہ کہ دختروں کے مہر میں کمی فاحش کی جائے مثلا اس کا مہر مثل ہزارروپے ہو اور پانسو باندھا جائے،اس صورت میں باپ کو اعتراض کا حق ہوگا یہاں تك کہ شوہر مہر پورا کردے اور جب ان صورتوں سے پاك ہویعنی جس سے نکاح کیا جائے وہ نسب ومذہب وغیرہ میں دختر سے ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہوناپدر دختر کے لئے باعث مطعونی وبدنامی ہو،اور مہر مثل میں بھی کمی فاحش نہ کی جائے،تو لڑکیوں کی اجازت سے نانا کا ایسا کیا ہوا نکاح صحیح وتام ونافذ ولازم ہوگا جس پر پدر دختران کو کوئی اعتراض نہیں پہنچتا،درمختار میں ہے:
|
لاتجبر البالغۃ البکر علی النکاح لانقطاع الولایۃ بالبلوغ [2]۔ |
باکرہ بالغہ پر ولایت اجبار نہیں کیونکہ اس کے بالغ ہوجانے پر ولایت ختم ہوچکی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع