30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٢)سرکار عالیہ نے یہ درخواست منظور فرماکر جملہ انتظامات ضرورری کیا تب حکم نافذ فرمادیا اور صاحبزادگان دام اقبالہ اور قاضی صاحب وغیر ہ کوبلاوا بھی پہنچ گیا۔
(٣)لڑکی اپنے ماموں کے یہاں تھی،لڑکے کے والد عقد کے دن لڑکی کو لانے کی غرض سے ماموں کے مکان پرگئے، ماموں نے عین وقت پر بھیجنے لڑکی سے قطعی انکار کیا،بیچارے شریف باپ نے اس غیرت کی وجہ سے زہر کھاکر اپنی جان کوہلاك کیا۔
(٤)باپ ولی جائزکی اجازت تحریری بعد فوتی اس کے یہ عقد کیا تب کچھ وقعت اور اثر رکھتی ہے یا نہیں؟
(٥)اب ماموں لڑکی کا بوجہ نفسانیت مظہر کے ساتھ عقد کرنے سے انکاری ہے اور اسی کے قبضہ میں لڑکی ہے۔
(٦)لڑکی کا سن گیارہ سال کچھ ماہ کا ہے۔
(٧)ورثاء میں لڑکی کے ایك چچا حقیقی اور ایك ماموں حقیقی،ایك بھائی حقیقی نابالغ اور والدہ ومطلقہ یہ شخص غیر کے نکاح میں ہیں۔
(٨)لڑکی کے چچا صاحب اس لڑکی کے مظہر سے عقد کرنے پر رضامند ہیں ان کی یعنی چچا صاحب موصوف کی محض اجازت سے عدم موجودگی اور بغیر اطلاع لڑکی کے نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں یا کہ لڑکی کا موجود ہونا وقت نکاح لازمی ہے؟ فقط۔
الجواب
صورت مذکورہ میں جب تك لڑکی نابالغ ہے(یعنی)اسے حیض شروع نہ ہوایا پندرہ سال کا مل کی عمر نہ ہوئی اس وقت تك اس کا ولی نکاح اس کا چچا ہے اور لڑکی کے بلوغ سے پہلے اس کا بھائی بالغ ہوجائے تو ولایت چچا سے بھائی کی طرف منتقل ہوجائے گی بہر حال ماموں یا ماں کو اس کے نکاح کا کچھ اختیار نہیں،تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
|
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث والحجب فان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للام ثم للاخت ثم لولدالام ثم لذوی الارحام العمات ثم الاخوال [1]۔ |
نکاح کا ولی،وراثت اور مانع ہونے کی ترتیب کے مطابق عصبات بنفسہ ہوتے ہیں،اگر یہ نہ ہوں تو پھر ولایت ماں کو حاصل ہوگی،پھر بہن کو پھر والدہ کی طرف سے بھائی پھر ذوی الارحام میں پھوپھی پھر ماموں کو حاصل ہوتی ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع