30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خرچہ لندن کے قیام کا طلب کیا جاتاہے ان حالتوں سے فسخ ہوگایا نہیں؟ اور سعیدہ مجاز ہے کہ اپنے باپ کے نکاح کو جو بخوشی نہیں بلکہ محض بمجبوری وبخوف حکام وقت وتوقع رفع خر خشہ کیا تھا اور رفع بھی نہ ہوا بلکہ بعد از بسیاری جنگ کے خلع وجدائی درمیان زید وہندہ کے ہوگئی تو ایسے نکاح کو سعیدہ توڑسکتی ہے یا نہیں او رخالد کا کب تك انتظار کیا جائے گا،نہ وہ آتا ہے اور نہ کسی قسم کی خبرگیری اخراجات کی بھی سعیدہ کی کرتاہے بدستور سعیدہ اپنے باپ کے گھر ماں سے بھی جدا پڑی ہے اور زید کو یہ بھی خیال ہے کہ خالد ہرگز نہیں آئے گا او رآئے گا تو بوجہ طرز معاشرت بدل جانے وصحبت غیر مذاہب کے حقوق کی تعمیل پوری پوری خالد سے ادا نہ ہوگی،ایسی حالت میں شریعت کیونکر سعیدہ کو مجبور کرے گی اور باپ کے ایك لغو ومجبوری سے عمل کے باعث وہ غریب بدقسمت سعیدہ پریشانی میں مبتلا رہے گی،
الجواب:
باہمی جھگڑے قصے نہ حد اکراہ تك پہنچتے ہیں نہ نکاح میں اکراہ کو دخل ہے اگر ولی کسی کے جبر واکراہ ہی سے نکاح کردے نکاح ہوجائے گا
|
فی الھندیۃ من الاکراہ زوجھا اولیاؤھا مکرھین فالنکاح جائز ١[1]۔ |
ہندیہ میں ہے کہ اگر اولیاء نے کسی جبر کی بناپر نابالغہ کا نکاح دیا تو نکاح جائز ہوگا۔(ت) |
نہ نا بالغہ سے اجازت لینے کی حاجت نہ باپ کے کئے ہوئے نکاح پر عورت کا بعد بلوغ حق اعتراض،مگر اس حالت میں کہ شوہر وقت نکاح کفو نہ تھا اور باپ اس سے پہلے بھی کبھی اپنی ولایت سے کسی لڑکی کا نکاح غیر کفو سے کرچکا ہو،غیر کفو وہ جس سے نکاح ہونا عرفًا اولیائے ہندہ کے لئے وجہ ننگ وعار ہو کہ وہ نسب یا پیشے یا مذہب یا چال چلن میں رذیل وذلیل وبدنام ہو،یہاں جب یہ صورتیں نہیں نکاح بے شك نافذ وتام ولازم ہوگیا جو کسی کے رد کئے رد نہیں ہوسکتا،یہ اس حالت میں ہے کہ سعیدہ وقت نکاح نابالغہ ہو جیسا کہ بظاہر اس کی عمر مذکور سے مترشح ہوتاہے کہ ہندوستان میں اس عمر پر بلوغ نادرہے اگر نابالغہ تھی کہ لڑکی نو برس کی عمر میں بالغہ ہو سکتی ہے تو وہ نکاح کہ باپ نے اس کے لئے بے اذن کیا نکاح فضولی تھا اسے خبر پہنچنے پر اختیار تھا کہ رد کردیتی مگر یہ رد اسی جلسہ خبر میں ہو سکتا تھا اگر جلسہ بدل کر ردکرے تو مقبول نہ ہوگا۔اور تقریر سوال سے سعیدہ کا رد کرنا اصلا ظاہر نہیں بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ساکت رہی اور بکر کا سکوت بھی اذن ہے تو نکاح یوں بھی لازم ہوگیا جس کے رد کی طر ف سبیل نہیں مگر صورت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع