دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 11 | فتاوی رضویہ جلد ۱۱

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۱

بلکہ ظاہرًا خوش معلوم ہوتی ہے۔بینوا تو جروا

الجواب:

ا س صورت میں یہ نکاح فضولی تھا اگر خبر نکاح سن کر ہندہ نے کوئی قول یا فعل اظہار ناراضی کا نہ کیا بلکہ عادل ثقہ سے نکاح کی خبر سن کر خاموش ہی ہورہی یا خبر کسی عادل سے نہ سنی نہ ولی نے اسے اطلاع کرابھیجی تو ساکت رہی یہاں تك کہ شوہر سے برضا ہم خواب ہوئی تو نکاح نافذ وتام ہوگیا۔

فی الھندیۃ اذا مکنت الزوج من نفسھا بعد مازوجھا الولی فہورضا [1] وفی الدرالمختار زوجھا ولیھا واخبرھا رسولہ اوفضولی عدل فسکتت فھواذن[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

ہندیہ میں ہے کہ جب بالغہ نے خاوند کو جماع کا موقعہ دے دیا تو یہ ولی کے نکاح پر اس کی رضامندی ہوگی،درمختار میں ہے کہ اگر ولی نے نکاح دیا تو ولی کے قاصد نے یا کسی عادل اجنبی نے بالغہ کو اطلاع دی اور وہ اس پر خاموش رہی تو یہ رضامندی ہوگی۔والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ٣٥٧:           از صاحب گنج گیا مرسلہ مولوی امیرالدین صاحب                          ٤ شعبان ١٣٢٤ھ

علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید اور اس کی زوجہ ہندہ میں جنگ باغوائے مفسدان بدکاران پیدا ہوا،اور ہندہ کے بطن سے ایك لڑکی زید کی جس کا نام سعیدہ تھا اور عمر گیارہ برس گیارہ مہینے کی تھی بکر نے اپنے لڑکے خالد کی منسوب سعیدہ سے چاہا زید کو منظور نہ ہوا تب بکر نے ہندہ زوجہ کو برہم کرایا اور ہندہ نے اس قدر فساد مچایا کہ زید کو مجبوری ہوئی بمجبوری وتاکید وبخوف حکام ضلع بخیال اس کے کہ رفع جملہ فساد وقصہ ہوجائے گا اور یہ ثابت بھی کیا گیا تھا کہ اگر یہ عقد ہوگا تو قصہ سب دفع ہوگا صلح سے زمانہ گزرے گا اس منسوب کو منظور کیا اور سعیدہ نے اپنی لڑکی کا نکاح خالد سے بلااذن کردیا لیکن خالد و سعیدہ سے آج تك ملاقات نہ ہوئی اور نہ سعیدہ سے کسی قسم کی رضامندی لی گئی نہ سعیدہ کو سمجھا یا گیا کہ کیا ہوتاہے اور بعد نکاح کے خالد لندن چلا گیا اور بحیلہ تحصیل انگریزی وہاں فسق وفجور ولہو ولعب میں مبتلا ہوا چھ برس ہوا کہ خالد لندن میں ہے نہ پڑھتا ہے نہ آتاہے اورنہ کسی قسم کی خبر گیری یا پرسش سعیدہ کی کرتاہے زید نے بکر کو وخالد کو یعنی دونوں پدر وپسر کو لکھا کہ شادی کرلی جائے او رخالد آئے اور اپنی منکوحہ کو لے جائے،مگر نہ خالد آتا ہے نہ کسی قسم کی کفالت خرچہ کی سعیدہ کی خالد یا بکر اس کے باپ کی طرف سے ہوتی ہے اور بلکہ زید سے


 

 



[1] فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی الاولیاء نورانی کتب خانہ پشاور ١/٢٨٧

[2] درمختار باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ١/١٩١

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن