30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪[1] |
گناہ اور زیادتی میں باہم مدد نہ کرو۔ |
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من اٰذی مسلما فقد اٰذانی ومن اٰذانی فقد اذی اﷲ ٢[2]۔ |
جس نے کسی مسلمان کو ناحق ستایا اس نے مجھے ایذا دی ا ور جس نے مجھے ایذا دی اس نے الله تعالی کو ایذا دی۔والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٣٥٤: ٢٧ ربیع الآخر شریف ١٣١٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکی دس برس کی ہے،ماں نانی چچا میں سے کس کو اس کے نکاح کا اختیار ہے؟ اور دختر کا ایك بھائی بھی دوازدہ سالہ ہے۔بینوا تو جروا
الجواب:
چچا کو ہے اگر بھائی نابالغ ہو ورنہ بھائی کو،بار ہ برس کی عمر میں بلوغ ممکن ہے اگر وہ دعوٰی بلوغ کرے مانا جائے گا کما فی الدرالمختار(جیسا کہ درمختار میں ہے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣٥٥: مسئولہ کرم الدین صاحب ساکن جلالپور جٹاں محلہ ساہدوان ضلع گجرات ملك پنجاب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین وفضلائے اسلام مبین اس صورت میں کہ خالد نے اپنی لڑکی نابالغہ جس کی عمر اندازی دس یاگیارہ برس کی تھی رحیم بخش بالغ کے ساتھ نکاح پڑھادیا اب بوجہ کوئی فساد کے دختر بالغہ مذکور چاہتی ہے کہ نکاح فسخ ہوجائے آیا شرعًا ممکن ہے کہ عقد مذکور باختیار دختر موصوفہ فسخ ہوجائے۔بینوا تو جروا
الجواب:
باپ دادا جو نکاح نابالغہ کا کردیں وہ لازم ہوجاتاہے۔لڑکی بعد بلوغ کے خواہ کوئی اور اسے فسخ نہیں کرسکتا،مگر صرف دو تین صورتیں ہیں کہ جس کی اس وقت تفصیل کی حاجت نہیں ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاہل(جو اپنے زمانے کے عرف سے ناواقف ہے وہ جاہل ہے۔ت)مستفتی صاحب کو چاہئے کہ مفصل کیفیت سے مطلع کریں کہ وہ کیا فساد ہے جس کے سبب اب عورت فسخ چاہتی ہے اور اس فساد پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع