30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ویتأتی فیہ فان وافق اجیب والامنع فلایکون الرضا بالوعد رضا بالعقد وھذا ظاھر جدا۔ |
جائز ہ لیا جائے اور غور کیا جائے اور تاخیر کی جاتی ہے تاکہ وہ موافق ہو تو منگنی قبول کی جائے ورنہ انکار کیا جائے لہذا وعدہ پر رضا کو عقد نکاح پر رضا مندی نہیں قرار دیاجا سکتا،یہ معاملہ ظاہر ہے۔(ت) |
تویہ نکاح نکاح فضولی ہوا اور اجازت ولی پر موقوف رہا،بعد سماع خبر اگر ولی نے قولًا یا فعلًا اس کی تنفیذ ظاہر کی نافذ ہوگیا صرف دل میں خوش ہونا اور زبان سے انکار کافی نہیں لانہ سکوت والساکت لاینسب الیہ قول(کیونکہ یہ سکوت ہے اور ساکت کی طرف کوئی قول منسوب نہیں ہوسکتا۔ت) درمختارمیں ہے:
|
قبض ولی لہ الاعتراض المھر ونحوہ مما یدل علی الرضی دلالۃ لاسکوتہ مالم تلد[1] اھ مختصرا۔ |
لڑکی کے ولی کو مہر پر اعتراض تھا اس کے باوجود اس نے مہر وصول کیا اور ایسا کام کیا جس کورضا پر دال قرار دیا جاسکتا ہے تو دلالۃً رضا ہوگی محض سکوت رضانہ قرار پائے گا جب تك لڑکی کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوجائے اھ مختصرا۔(ت) |
پس اگر واقع اسی قدر ہے تونکاح بدستور ا س کی اجازت پر موقوف ہے باطل کردے خواہ نافذ،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣٥٣: ٢٢ ربیع الاول شریف ١٣٢٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بیوہ نے اپنا عقد ایك شریف اپنےخاندانی سے کرلیا ا س پر عمر وبکر وخالد نے اسے اور اس کی ماں اور شوہر کو برادری سے نکال دیا اور ایذادی،اس میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
اگر ہندہ نے عقد ثانی بعد عدت گزرنے کے کیااور شوہر دوم بد مذہب نہیں جس سے نکاح باطل یا گناہ ہو اور ہندہ اگر کوئی عصبہ اپنا ولی رکھتی ہے تو شوہر دوم اس کا کفو ہوگا یاا گر کفو نہیں اور ولی نے دیدہ ودانستہ پیش از نکاح صریح اجازت دے دی ہو تو ان صورتوں میں ہندہ اور اس کی ماں اور شوہر پر کچھ الزام نہیں خالد وعمر وبکر صرف بوجہ نکاح ثانی انھیں ایذا دیتے ہیں ظالم وگنہگار اور حق العبد میں گرفتار ہیں ان پر توبہ فرض ہے،اگر نہ کریں تو خود یہی لوگ برادری سے نکال دینے کے قابل ہیں جو لوگ ان خالد وعمر وبکر کا ساتھ دیں گے وہ بھی مستحق عذاب ہوں گے، الله تعالٰی فرماتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع