30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
متوقفۃ ولاتنفذ بمجرد بلوغہ [1] اھ مختصرا وفی تنویر الابصار بطل خیار البکر بالسکوت عالمۃ بالنکاح ولایمتد الی المجلس وان جہلت بہ ٢[2] وباقی المسائل مشہورۃ وفی الکتب مذکورۃ۔ |
موقوف تھے اس لئے صرف لڑکے کے بلوغ سے نافذنہ ہوں گے اھ مختصرا۔اور تنویر الابصار میں ہے باکرہ بالغہ اگر اپنے نکاح کا علم ہوجانے پر خاموش رہے تو ا سکا حق فسخ باطل ہوجاتاہے او رجس مجلس میں علم ہوا اس مجلس کے اختتام تك باقی نہ رہے گا اگرچہ وہ اس مسئلہ میں جاہل ہو، باقی مسائل مشہور اور کتب میں مذکور ہیں،(ت) |
نابالغی کی حد پندرہ سال کی عمر تك ہے،اس مدت سے پہلے اگر دختر کو نو بر س یاپسر کو بارہ برس کی عمر کے بعد آثار بلوغ مثل احتلام و حیض ظاہر ہوگئے تو اس وقت سے حکم بلوغ ہوجائے گا ورنہ پندرہ برس کی عمر پوری ہونے پرلڑکا لڑکی دونوں مطلقابالغ سمجھےجائیں گے اگرچہ کوئی علامت بلوغ ظاہر نہ ہو بہ یفتی کما فی الدرالمختار ٣[3] وغیرہ لقصر زماننا(اور اس پر فتوی ہے جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے کیونکہ ہمارے زمانے کی عمریں کم ہیں،ت)
مسئلہ ٣٥٢: ا زاحمد آباد گجرات محلہ چکلہ کالوپور متصل پل گلیارہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالرحیم صاحب ١٦ربیع الاول ١٣٢٠ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی لڑکی کی منگنی کرنے کے لئے سفر سے دوسرے شخص پرلکھا کہ میری لڑکی کی منگنی فلاں لڑکے کے ہمراہ کرنا لڑکا لڑکی دونوں نابالغ ہیں یہاں اس شخص نے جس کوفقط منگنی کی اجازت دی گئی تھی خود ولی ہوکر بعد منگنی کے نکاح بھی کردیا اس کے والد کو خبر ہوئی کہ لڑکی کا نکاح جس کو منگنی کا اختیار دیا تھا کردیااس سے یہ شخص خوش ہوا اور اس کے پڑھائے ہوئے نکاح پر انکار نہ کیا،اب یہ نکاح عند الشرع منعقد ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
منگنی کی اجازت نکاح کی اجازت نہ تھی،
|
فان ھذا عقد وذاك وعد وقد یفعل الوعد لینتظر لخاطب ثم ینظر |
کیونکہ نکاح عقد ہے اور منگنی صرف وعدہ ہے جبکہ وعدہ کبھی اس لئے کرلیا جاتا تاکہ منگنی کرنے والے کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع