30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو مرد عاقل بالغ ہو رشتے میں سگا ہو یا سوتیلا مثلا عورت کے پردادا کے سوتیلے پردادا کی نسل میں پر پوتے کا پوتا،جب تك ان میں سے کوئی شخص عاقل بالغ موجود ہو ماں کو اصلا ولایت نہیں،اور بعد بلوغ تو ماں کو ولایت سے کوئی تعلق ہی نہیں خواہ عصبہ موجود ہو یا نہ ہو،
|
لان حق الاولیاء بعد ذٰلك انما ھو فی الاعتراض ان نکحت غیر کفو اوبغبن فاحش فی مھر المثل [1]وابطال النکاح بغیر الکفو اذالم یرض الولی بہ قبل العقد صریحا مع العلم بعدم الکفائۃ وذٰلك انما ھو فی حق العصبۃ لاغیر [2] کما نص علیہ فی الدر وغیرہ۔ |
کیونکہ اس کے بعد اولیاء کا حق اعتراض صر ف اس صور ت میں ہے جب لڑکی نے غیر کفو اور انتہائی کم مہر پر نکاح کیا ہو یا جب نکاح سے قبل ولی کو غیر کفو ہونے کا علم ہوا تو صراحتًا اس نے اپنی عدم رضا کا اظہار کردیا ہو تو اس کا نکاح باطل کرنے کا حق ہے،اورحق اعتراض بھی صرف اولیاء عصبہ کو حاصل ہے کسی دوسرے کونہیں،جیساکہ در وغیرہ میں اس پر تصریح ہے(ت) |
دودھ شریك بھائی سے نکاح نہ ہوسکنا خود ظاہر ہے مگر الزام اس حالت میں ہے جب انھیں دودھ شریك ہونامعلوم ہو،والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٣٥١: از کانپور محلہ فراش خانہ عقب آبکاری سڑك جدید متصل کوڑہ گھر مکان حافظ زبیر حسن عطار مرسلہ سعید الحسن صاحب ١٢ جمادی الآخرہ ١٣١٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ کے ایك بیٹی مسماۃ رضیہ شوہر متوفی سے ہے،جب رضیہ کی عمر آٹھ برس دو مہینے کی تھی ہندہ نے رضیہ کا عقد بزمانہ نابالغی ساتھ خالد کے کردیا لیکن بوجہ نابالغی رضیہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رخصت ہوئی بدستور اپنی ماں کے ساتھ رہی،اب زمانہ عقد کو چار سال سے زیادہ عرصہ گزرا اور رضیہ بھی اب ہوشیار وبالغ ہوئی،اس درمیان خالد نے ایك دوسری عور ت کو رکھ لیا جس سے اطفال بھی پیدا ہوئے،خالد کی وضع اور اطوار وچال چلن ہندہ ورضیہ کو تمام تر ناگوار ہیں اور تعلق ہونا خالد سے نہیں چاہتی کمال درجہ نفرت وانکار رکھتی ہے اور خلع چاہتی ہے،بحکم شرع شریف مسماۃرضیہ کو کیا کرنا چاہئے جس سے اس کو خالد سے قطع تعلق ہوجائے اور عقد فضولی یہ عقد نابالغی کا قرار پائے گا یا نہیں؟ اور تعمیل حکم خلع کا کس طریقہ سے کیا جائے گااور مدت نابالغی ازروئے شرع شریف ہندوستان میں علی الخصوص ممالك مغرب شمال کے لئے کس سنہ وسال کی مقدار سے ہے؟ بینوا تو جروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع