30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قادر نہیں،اور ہر عقد فضولی کہ وقت وقوع جس کا کوئی منفذ نہ ہو باطل ہے،ولی عصبہ بھی اپنی رضاشامل کرکے اسے صحیح نہیں کرسکتا یہاں رضائے ولی قبل عقد لازم ہے بعدعقدلغو وبیکار ہے،
|
فی الدرالمختار یفتی فی غیر الکفو بعدم جوازہ اصلا وھو المختار للفتوی لفساد الزمان [1]۔ فی ردالمحتار ھذا اذاکان لھا ولی لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضی بعدہ [2] بحر،فی الدر من فصل الفضولی کل تصرف صدر منہ کبیع وتزویج وطلاق ولہ مجیزای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالامجیز لہ حالۃ العقد لاینعقداصلا ٣[3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
|
درمختار میں ہے کہ غیر کفو میں نکاح کے جائز نہ ہونے کا فتوی ہے،زمانہ فساد کی وجہ سے یہی مختارہے، ردالمحتار میں ہے کہ اگر لڑکی کا ولی نکاح سے قبل اس نکاح پر راضی نہ تھا تو بعد کی رضا مفید نہیں،بحر۔درمیں فضولی کی فصل میں ہے کہ فضولی کاہر ایسا تصرف کہ اس کے صدور کے وقت کوئی اس کو جائز کرنے پر قدرت رکھنے والا موجود ہو توفضولی کا وہ تصرف موقوف ہونے کی حد تك جائز ہوگا،جیساکہ بیع،نکاح دینا،طلاق وغیرہ،اور اگر کوئی اس وقت جائز کرنے والا موجود نہ ہو تو یہ تصرف قطعًا منعقد نہ ہوگا،والله تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٣٥٠: از ستار گنج ٢٦ ربیع الآخر ١٣١٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی دختر کی منگنی کرکے زوجہ اور دختر چھوڑ کر فوت ہوا،ایك دن والدہ کی غیبت میں اس لڑکی بالغہ کو چند شخصوں نے زبردستی ایك گھر میں کردیا،والدہ نے کچہری میں دعوٰی کیا،ادھر کا جواب یہ ہے کہ متوفی کا ایك بھائی جودوسرے باپ سے تھا اس نے بلااجازت دختر ووالدہ دختر کے نکاح کردیا،پس اس صورت میں ولایت نکاح ماں کو ہے یا نہیں اور کس کس رشتے دار کو ماں کے سامنے اجازت ولایت ہے،جس نے زبردستی اس لڑکی کو گھر میں رکھا ہے اس نے لڑکی کی والدہ کا دودھ پیاہے،بینوا تو جروا
الجواب:
بالغہ پر ولایت جبریہ کسی کو نہیں،ولی نکاح ہر عصبہ ہے یعنی نزدیك یادور کے دادا پرداد کے اولاد میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع