30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ذیل کے مسئلہ میں کہ ایك لڑکی کا علاتی بھائی اس کی عینی ماں اور ماموں کے مقابلہ میں ولی جائز ہے یا نہیں؟ وبر تقدیرولی جائز ہونے کے اس کی عدم موجودگی میں بلااطلاع ورضا لڑکی بالغہ کا غیر کفو کے ساتھ ماموں اور اس کی ماں کا عقد کردینا کیسا ہے اور نیز لڑکی کی ماں اپنے شوہر کا متروکہ دین مہر میں پاچکی ہے۔بینوا تو جروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اس لڑکی کا ولی نکاح اس کا علاتی بھائی ہے،ماں یا ماموں اس کے ہوتے کچھ استحقاق نہیں رکھتے۔
|
فی الدرالمختار الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ فان لم یکن عصبۃ فالولایۃ للام(الٰی قولہ)ثم لذوی الارحام العمات ثم الاخوال الخ اھ [1]ملتقطا۔ |
درمختارمیں ہے: نکاح کا ولی عصبہ بنفسہٖ ہوتاہے اگر وہ نہ ہو تو پھر ولایت ماں کو ہوتی ہے،انھوں نے ذوی الارحام پھوپھیاں پھر ماموں تك بیان کیا،الخ ملتقطا(ت) |
شرع مطہر میں غیر کفو وہ ہے جس کے نسب یا مذہب یاپیشے یا چال چلن وغیرہ میں کوئی ایسا نقص ہو جس کے باعث اس عورت کا اس سے نکاح ہونا اس کے اولیاء کے لئے باعث ننگ وعار ہو،اور یہاں عوام غیر قوم کو غیر کفو کہتے ہیں اگرچہ شرافت میں اپنا ہمسر ہو،بلکہ بعض تو یہاں تك توسیع کرتے ہیں کہ اگر اپنے سے برتر ہو شرع میں اس میں نظر نہیں، مغل پٹھان کفو ہیں،شیخ،قریشی وسادات کرام کفو ہیں،اپنا ہم قوم بد مذہب کفو نہیں،یہاں اگر عدم کفاءت یہی محاورہ عامیہ کے طور پر تھا یعنی وہ شخص اس دختر کا ہم قوم نہ تھا مگر اس طرح کا کوئی نقص نہ رکھتا تھا کہ شرعًا غیر کفو ہو جب تو یہ نکاح مطلقًا صحیح ومنعقد ہوگیا رضا واطلاع برادر کی حاجت نہیں،دختر کہ بالغہ ہے اگر اس سے اذن لے کر ہوا تو نافذ ہوگیا ورنہ دختر ہی کی اجازت پرموقوف رہا،اگر جائز کرے گی نافذ ہوگا رد کردے گی باطل ہوجائے گا برادر وغیرہ کسی ولی سے کوئی تعلق نہیں لانقطاع الولایۃ بالبلوغ کما نصوا علیہ(کیونکہ بالغ ہونے پر ولایت منقطع ہوگئی جیساکہ انھوں نے اس پر نص کی۔ت)اور اگر عدم کفاءت بہ معنی مذکور شرعی تھا تویہ نکاح کہ بے رضائے ولی عصبہ ہوا اصلا نہ ہوا کہ اگر باجازت دختر تھا تو عورت جو نکاح غیر کفو سے بے رضا عصبہ کرے باطل ہے،او راگر ماں یا ماموں نے بطور خود بے اذن دختر کیا تو یہ وہ عقد فضولی ہوگا جسے نافذکرنے والا کوئی نہیں کہ اختیار تنفیذ عورت کو ہوتا ہے وہ خود ایسے نکاح پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع