30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
روئے نمود نکاح موقوف نفاذ یا فت فی الدرالمختار ان استأذنھا غیر الاقرب کولی بعیدفلاعبرۃ لسکوتھا بل لابد من القول اوماھوفی معناہ من فعل یدل علی الرضا کتمکینھا من الوطئ [1](ملخصا)،وفی ردالمحتار عن الظھیر یۃ لوخلابھا برضاھا ھل یکون اجازۃ لاروایۃ لھذہ المسألۃ وعندی ان ھذا اجازۃ اھ قال البزازیۃ الظاھرانہ اجازۃ [2] اھ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
|
فعل کے ذریعے نکاح کو رد نہ کیا ہو(جیسا کہ رد کے وجوہ ہم نے اپنے فتاوی میں واضح کئے ہیں)تو یہ خلوت جوباکرہ کی رضامندی سے ہوئی ہے اجازت قرار پائے گی اور موقوف نکاح نافذ ہوجائیگا،درمختارمیں ہے کہ اگر لڑکی سے غیر اقرب مثلا ولی ابعد نے اجازت طلب کی ہو تو لڑکی کے سکوت کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ لڑکی کی طرف سے صراحۃً قول یا اس کے قائم مقام کسی اپنے فعل،جو رضا پر دلالت کرتاہو،کا اظہار ضروری ہے مثلا وہ خاوند کو وطی کی جازت دے دے۔ اور ردالمحتار میں جو بحر سے منقول انھوں نے ظہیریہ سے نقل کیا کہ اگر لڑکی کی رضامندی سے خلوت کی ہوتو کیا یہ رضا ہوگی،تو اس مسئلہ میں روایت نہیں ہے،جبکہ میرے نزدیك یہ اجازت ہے اھ،اور فرمایا کہ بزازیہ میں ہے کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ اجازت ہے اھ، والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ٣٤٧: از عظیم آبادپٹنہ لودی کٹرہ مرسلہ جناب مولٰنا مولوی قاضی عبدالوحید صاحب رحمہ الله تعالٰی سلخ ربیع الآخر ١٣١٧ھ
عمرو نامی ایك شخص نے بوقت انتقال اپنے،ایك لڑکی ہندہ نامی،ایك بی بی زبیدہ،ایك بھائی حقیقی خالد،ایك بھائی علاتی بکر چھوڑا،ہندہ ہمراہی اپنی مادر اور نانی کے پرورش پاتی رہی،اب وہ بالغ ہے سن اس کا زائد چودہ سال سے ہے،ہندہ کی ولایت کا سارٹیفیکیٹ گورنمنٹ سے ہندہ کی ماں کو ملاہے،اس وقت تك ہندہ نے مادر ونانی کے مکان میں ابتدائے پیدائش سے رہ کر پرورش وتعلیم پائی ہے،خالد نے یعنی چچا حقیقی ہندہ کے براہ چالاکی وبخیال نفع معاش بلاعلم ورضامندی ہندہ وچچا علاتی ومادر ونانی وغیرہ کے ایك شخص غیر کے مکان میں اپنے بیٹا سے بولایت اپنے ایك شخص کووکیل مقرر کرکے ہندہ کا عقد کردیا ہے اور کوئی خبر ہندہ کو نہیں دی گئی،جس وقت ہندہ کو افواہًا خبر نکاح کی پہنچی اس وقت اس نے نکاح کو نامنظور کیا اور بہت بیزار ہوئی،علماء بدلائل کتاب جواب سے سرفراز فرمائیں،فقط
الجواب:
شرعًا عورت کے بالغہ ہونے کے لئے پندرہ سال کامل عمر ضرور ہے یااس سے پہلے حیض وغیرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع